| علمُ القرآن |
(5) وَ الَّذِیۡنَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَ الْاِیۡمَانَ مِنۡ قَبْلِہِمْ یُحِبُّوۡنَ مَنْ ہَاجَرَ اِلَیۡہِمْ وَ لَا یَجِدُوۡنَ فِیۡ صُدُوۡرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَ یُؤْثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ؕ۟ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ ﴿ۚ۹﴾
اور وہ جنہوں نے پہلے سے اس شہر اور ایمان میں گھر بنالیا دوست رکھتے ہیں انہیں جوان کی طرف ہجرت کر کے آئے او راپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے اس چیز کی جو دیئے گئے اور اپنی جان پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگر چہ انہیں بہت محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کے بخل سے بچا یا گیا وہ ہی کامیاب ہے ۔(پ28،الحشر:9)
اس آیت میں انصار مدینہ کونام لے کر پتہ بتا کر کامیاب فرمایا گیا۔ معلوم ہواکہ سارے مہاجرین وانصار سچے اور کامیاب ہیں۔(6) لَا یَسْتَوِیۡ مِنۡکُمْ مَّنْ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قَاتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعْدُ وَ قَاتَلُوۡا ؕ وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی ؕ
تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ او رجہاد کیا وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح خرچ اور جہادکیا اوران سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرما چکا ہے ۔(پ27،الحدید:10)
اس آیت نے بتا یا کہ سارے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے رب تعالیٰ نے جنت کا وعدہ فرمالیا ہے لیکن وہ خلفاء راشدین جو فتح مکہ سے پہلے حضو ر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے جاں نثار رہے وہ بہت درجے والے ہیں ان کے درجہ تک کسی کے وہم وگمان کی رسائی نہیں کیونکہ رب تعالیٰ نے ساری دنیا کو قلیل یعنی تھوڑا فرمایا اور اتنے بڑے عرش کو عظیم یعنی بڑا فرمایا لیکن ان خلفائے راشدین کے درجہ کو چھوٹا نہ کہا،بڑا نہ فرمایا بلکہ