حشر ہوگا وہ ظاہر ہے۔ اس لئے آج اس ترجمہ کی بر کت سے مسلمانوں میں بہت فرقے بن گئے ہیں ۔ یہ مترجم حضرات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ جو ان کے کیے ہوئے ترجمہ کو نہ مانے ، اسے مشرک مرتد ، کافر کہہ دیتے ہیں ۔ تمام علما ء وصلحاء کو کافر سمجھ کر اسلام کو صرف اپنے میں محدود سمجھنے لگے ہیں ، چنانچہ مولوی غلام اللہ خاں صاحب نے اپنی کتاب''جواہر القرآن''کے صفحہ ۱۴۱ ، ۱۴۳ پر لکھا کہ جو کوئی نبی ، ولی ، پیر ، فقیر کو مصیبتوں میں پکارے وہ کافر، مشرک ہے۔ اس کا کوئی نکاح نہیں اور صفحہ ۱۵۲ پر تحریر فرمایا ہے کہ اس قسم کی نذر نیاز شرک ہے۔ اس کا کھانا خنزیر کی طر ح حرام ہے ۔ اس فتویٰ سے سارے مسلمان بلکہ خود دیوبندوں کے اکابر مشرک ہوگئے بلکہ خود مصنف صاحب کی بھی خیر نہیں وہ بھی اس کی زد سے نہیں بچے چنانچہ یہاں گجرات سے ایک صاحب نے تحریری استفتاء مولوی غلام اللہ خاں صاحب کی خدمت میں بذریعہ جوابی ڈاک بھیجا جس میں سوال کیا کہ آپ نے اپنی کتاب ''جواہر القرآن ''کے صفحات مذکورہ پر لکھا ہے کہ پیرو ں کے پکارنے والے کا نکاح کوئی نہیں اور نذر نیاز کا کھانا خنزیر کی طر ح حرام ہے آپ کے محترم دوست اور دیوبندیوں کے مقتداء عالم عنایت اللہ شاہ صاحب گجراتی کے والد مولوی جلال شاہ صاحب ساکن دو لتا نگر ضلع گجرات ، اور سنا گیا ہے کہ آپ کے والدین بھی گیارہویں کھاتے تھے اور کھلاتے تھے ''ختم غوثیہ'' پڑھتے تھے جس میں یہ شعر موجود ہے ؎