Brailvi Books

علمُ القرآن
22 - 244
ترجمہ قرآن میں دشواریاں
    قرآن شریف عربی زبان میں اتر ا ،عربی زبان نہایت گہر ی زبان ہے ۔ اولاً توعربی زبان میں ایک لفظ کے کئی معنے آتے ہیں جیسے لفظ ''ولی'' کہ اس کے معنی ہیں دو ست، قریب،مددگار،معبود،ہادی،وارث، والی،اورقرآن میں یہ لفظ ہر معنے میں استعمال ہوا ہے ۔ اب اگر ایک مقام کے معنی دوسرے مقام پر جڑ دیئے جائیں تو بہت جگہ کفر لازم آجاوے گا پھر ایک ہی لفظ ایک معنی میں مختلف لفظوں کے ساتھ ملکر مختلف مضامین پیدا کرتا ہے مثلاً شہادت بمعنی گواہی اگر''عَلٰی'' کے ساتھ آئے تو خلاف گواہی بتاتا ہے اور اگر'' لام'' کے ساتھ آئے توموافق گواہی کے معنی دیتا ہے ۔ لفظ''قَالَ'' بمعنی کہا ۔ اگر ''لام'' کے ساتھ آوے تو معنی ہوں گے اس سے کہا۔ اگر ''فِیْ'' کے ساتھ آوے تو معنی ہوں گے اس کے بارے میں کہا ۔ اگر''مِنْ''کے ساتھ آوے تو معنی ہوں گے اس کی طر ف سے کہا ، ایسے ہی ''دعا''کہ قرآن میں اس کے معنی پکارنا ، بلانا ، مانگنا اور پوجنا ہیں۔جب مانگنے او ر دعا کرنے کے معنی میں ہو تو اگر'' لام'' کے ساتھ آوے گا تو اس کے معنی ہوں گے اسے دعا دی اور جب''عَلٰی'' کے ساتھ آوے تو معنی ہونگے اسے بد دعا دی ۔

    ا سی طر ح عربی میں لام ،مِنْ،عَنْ، ب، سب کے معنی ہیں ''سے'' لیکن ان کے موقع استعمال علیحدہ ہیں اگر اس کا فر ق نہ کیا جائے تو معنی فاسد ہوجاتے ہیں پھر محاورہ عرب، فصاحت وبلاغت وغیرہ سب کا لحا ظ رکھنا ضروری ہے اور ظاہر ہے کہ علم کا مل کے بغیر یہ نہیں ہوسکتا اور جب عوام کے ہاتھ یہ کام پہنچ جائے تو جو کچھ ترجمہ کا
Flag Counter