Brailvi Books

علمُ القرآن
225 - 244
بخشی رب تعالیٰ کا پھونکنا وہ ہے جو اس کی شان کے لائق ہو مگر لفظ پھونکنے کااستعمال فرمایا گیا بلکہ جان کو رو ح اسی واسطے کہتے ہیں کہ وہ پھونکی ہوئی ہوا ہے ۔ روح کے معنی ہوا ، پھونک ہیں ۔
(۲) وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیۡۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِکَلِمٰتِ رَبِّہَا وَکُتُبِہٖ وَ کَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیۡنَ ﴿٪۱۲﴾
اللہ بیان فرماتا ہے اور عمران کی بیٹی مریم کا جس نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی تو ہم نے اپنی طر ف سے اس میں روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کی باتوں اور کتابوں کی تصدیق کی اور فرماں برداروں میں ہوئی ۔(پ۲۸،التحریم:۱۲)

    اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے گریبان میں دم کیا جس سے آپ حاملہ ہوئیں اور عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہو ئے اسی لئے آپ کا لقب روح اللہ بھی ہے اور کلمۃ اللہ بھی، یعنی اللہ کا دم یا اللہ کا کلمہ۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے کچھ پڑھ کر حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر دم کیا جس سے یہ فیض دیا ۔ اب بھی شفا وغیرہ کے لئے پڑھ کر دم ہی کرتے ہیں۔
(3) اَنِّیۡۤ اَخْلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡئَۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذْنِ اللہِ ۚ
فرمایا عیسیٰ نے کہ میں بناتا ہوں تمہارے لئے پرندے کی صورت پھر اس میں دم کرتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے اورکوڑھی اندھے کو اچھا کرتا ہوں اورمردے جلاتا ہوں اللہ کے حکم سے ۔(پ3،اٰل عمرٰن:49)
Flag Counter