| علمُ القرآن |
(3) اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِہِمْ ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوۡنَ وَ بِنِعْمَۃِ اللہِ یَکْفُرُوۡنَ ﴿۶۷﴾
کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ ہم نے حرم شریف کو امن والا بنایا او ران کے آس پاس کے لوگ اچک لئے جاتے ہیں کیا باطل پر ایمان لاتے ہیں او راللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں۔(پ21،العنکبوت:67)
ان آیتو ں سے پتہ چلا کہ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کی بستی جو کعبہ معظمہ کا شہر ہے بہت حرمت والا اور عظمت والا ہے ۔(4) ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ ۚ قَالَ رَبِّ ہَبْ لِیۡ مِنۡ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً ۚ اِنَّکَ سَمِیۡعُ الدُّعَآءِ ﴿۳۸﴾
وہاں مریم کے پاس زکریا نے دعا مانگی عرض کیا کہ اے رب مجھے اپنی طرف سے ستھری اولاد دے بے شک تو دعا کا سننے والاہے ۔(پ3،اٰل عمرٰن:38)
(5) قَالَ الَّذِیۡنَ غَلَبُوۡا عَلٰۤی اَمْرِہِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیۡہِمۡ مَّسْجِدًا ﴿۲۱﴾
اور جو اس معاملہ پر غالب آئے وہ بولے کہ ہم اصحاب کہف پر مسجد بنائیں گے۔(پ15،الکہف:21)
ان آیتو ں سے معلوم ہو اکہ حضرت زکریا علیہ السلام نے مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس کھڑے ہوکر اولاد کی دعا مانگی تا کہ قرب ولی کی وجہ سے دعا جلد قبول ہو اور مسلمانوں نے اصحاب کہف کے غار پرمسجد بنائی تا کہ ان کی برکت سے زیادہ قبول ہوا کرے ۔(6) لَاۤ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ ۙ﴿۱﴾وَ اَنۡتَ حِلٌّۢ بِہٰذَا الْبَلَدِ ۙ﴿۲﴾
میں قسم کھاتا ہوں اس شہر مکہ کی جبکہ اے محبوب تم اس شہر میں تشریف فرما ہو۔(پ30،البلد:1۔2)