قسم ہے انجیر کی ،زیتو ن کی او رطور سینا پہاڑ کی اور اس امانت والے شہر کی۔(پ30،التین:1۔3)
ان آیتوں سے معلوم ہواکہ جس جگہ اللہ کے بندے ہوں وہ جگہ ایسی حرمت والی ہوجاتی ہے کہ اس کی رب قسم فرماتاہے۔
ان آیات سے یہ بھی پتہ لگا کہ بزرگو ں کے چلّے جہاں انہوں نے عبادت کی وہاں جاکر نماز پڑھنا ،دعاکرنا، اس جگہ کی تعظیم کرنا با عث ثواب ہے اسی لئے مدینہ منورہ میں ایک عبادت کا ثواب پچاس ہزار ہے اورمکہ مکرمہ میں ایک کا ثواب ایک لاکھ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ جگہ اللہ کے پیاروں کی ہے، ریل اگر چہ مساوی لائن سے گزرتی ہے مگر ملتی صرف اسٹیشن پر ہے، اللہ کے بندوں کی جگہ رحمت خدا کے اسٹیشن ہیں۔