| علمُ القرآن |
جس جگہ کوئی ولی رہتے ہوں یا رہے ہوں یا کبھی بیٹھے ہوں وہ جگہ حرمت والی ہے، وہاں عبادت اور دعا زیادہ قبول ہوتی ہے اس کی تعظیم کرو،دعا مانگو ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
(1) وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوۡا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ فَکُلُوۡا مِنْہَا حَیۡثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ نَّغْفِرْلَکُمْ خَطٰیٰکُمْ ؕ وَسَنَزِیۡدُ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿۵۸﴾
اور یاد کرو جب ہم نے کہا کہ داخل ہو تم اس بستی میں پھر اس میں جہاں چاہو بے روک ٹوک خوب کھاؤ اور دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو اور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور نیکی والوں کو اور زیادہ دیں گے ۔(پ1،البقرۃ:58)
اس آیت میں بتا یا گیا کہ جب بنی اسرائیل کی تو بہ قبول ہونے کا وقت آیا تو ان سے کہا گیا کہ بیت المقدس کے دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے گھسو اور گناہ کی معافی مانگو، بیت المقدس نبیوں کی بستی ہے اس کی تعظیم کرالی گئی کہ سجدہ کرتے ہوئے جاؤ اور وہاں جاکر تو بہ کرو۔(2) وَمَنۡ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا ؕ
جو اس مکہ میں داخل ہوگیا امن والا ہوگیا۔(پ4،اٰل عمرٰن:97)