کہ'' صرف جمعہ کو رو زہ نہ رکھے بلکہ آگے پیچھے ایک دن اور بھی ملائے ''معلوم ہوا کہ مقرر کرنا منع نہیں بلکہ جمعہ کے روزہ کی ممانعت ہے ممانعت کی وجہ کچھ اور ہے۔ کیا وجہ ہے؟ اس کے متعلق علماء کے بہت سے قول ہیں ایک یہ بھی ہے کہ جمعہ مسلمانوں کی عید ہے اور عید کو روزہ منع ہوتا ہے اس مناسبت سے اس کا روزہ منع ہے یعنی یہ مشابہ عید کے ہے دوسرے یہ کہ جمعہ کا دن کام کاج کا ہے غسل کرنا، کپڑے تبدیل کرنا،جمعہ کی تیاری کرنا،خطبہ سننا ، نماز جمعہ پڑھنا، ممکن ہے کہ روزے کی وجہ سے تکلیف ہو لہٰذا ان کاموں کی وجہ سے روزہ نہ رکھے جیسے حاجی کو نویں تاریخ بقر عید کا روزہ اور حاجی کو بقرعیدکی نماز مکروہ ہے اس لئے کہ وہ دن اس کے کام کے ہیں روزے سے اس کے کاموں میں حرج ہوگا ۔ تیسرے یہ کہ صرف جمعہ کے روزے میں یہود سے مشابہت ہے کہ وہ صرف ہفتہ کا روزہ رکھتے ہیں تم اگر جمعہ کا روزہ رکھو تو آگے پیچھے ایک دن اور ملا لو تا کہ مشابہت نہ رہے۔ چوتھے یہ کہ خود نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ دو شنبہ کارو زہ کیساہے فرمایاکہ اسی دن ہماری ولادت ہے اسی دن نزول وحی کی ابتداء ہوئی۔ لہٰذا روزہ رکھو اور خود نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ اسی خوشی میں رکھا کہ اس تاریخ میں موسیٰ علیہ السلام کو فر عون سے نجات ملی اگریادگاریں منانابراہوتاتویہ یادگاریں کیوں منائی جاتیں؟
اعتراض : چونکہ میلا د شریف او رعرس میں لوگ بہت حرام کام بھی کرتے ہیں لہٰذا یہ منع ہے۔
جواب : قاعدہ غلط ہے کوئی سنت حرام کام کے ملنے سے ناجائز نہیں ہوجاتی نکاح سنت ہے مگر لوگوں نے اس میں ہزار وں خرافات ملادیں تو نکاح کو نہیں روکا جاتا بلکہ ان چیزوں سے منع کیا جاتا ہے۔