| علمُ القرآن |
(6) قَالَ عِیۡسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلْ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ ۚ
عیسیٰ ابن مریم نے عرض کیا کہ یا رب ہم پر آسمان سے دستر خوان اتار کہ وہ ہمارے لئے اگلوں پچھلوں کی عید ہو اور یہ تیری طر ف سے نشانی ہو۔(پ7،المآئدۃ:114)
ان آیتو ں سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو انعامات کی تاریخیں یادد لاتے رہوان کی یاد گاریں قائم کرو اور عیسیٰ علیہ السلام نے غیبی دستر خوان کے آنے کی تاریخ کو اپنے اگلے پچھلے سارے عیسائیوں کے لئے عید قرار دیا۔ لہٰذامیلاد شریف، گیارہویں شریف ، بزرگوں کے عرس ، فاتحہ ، چالیسواں ، تیجہ وغیرہ سب جائز ہیں کیونکہ یہ اللہ کی نعمت کی یاد گار یں ہیں او ریاد گاریں منانا حکم قرآنی ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :(7) وَ اذْکُرُوۡا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیۡکُمْ
اللہ کی نعمت یا د کرو جو تم پر ہے ۔(پ6،المآئدۃ:7)
اعتراض: مسلم وبخاری کی روایت میں ہے کہ جمعہ کا روزہ نہ رکھو۔(صحیح البخاری،کتاب الصوم،باب صوم یوم الجمعۃ،الحدیث ۱۹۸۴،ج۱،ص۶۵۲، دار الکتب العلمیۃبیروت)
بعض روایتوں میں ہے کہ جمعہ کو رو زے سے خاص نہ کرو ۔
معلوم ہوا کہ کسی دن کی تعیین منع ہے ۔ چونکہ میلا د اور عرس میں تاریخ مقرر ہوتی ہے لہٰذا منع ہے۔ (وہابی)
جواب :اس کا جواب اسی حدیث میںآگے ہے کہ اگر جمعہ کسی ایسی تاریخ میں آجائے جس کے روزے کے تم عادی ہو تو رکھو یعنی اگر کسی کی عادت بارہویں کے روزے کی ہے اور جمعہ بارہویں کو آگیا تو رکھ لے ، نیز فرماتے ہیں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم