Brailvi Books

علمُ القرآن
210 - 244
پس تم نہیں سنا سکتے مردو ں کو اور نہیں سنا سکتے بہروں کو پکار جب وہ پیٹھ دے کر پھر یں او رنہ اندھوں کو ان کی گمراہی سے راہ پر لاؤ ۔(پ20،النمل:80،81)

ان آیات میں صاف بتایا گیا کہ قبر والے اور مردے نہیں سنتے ۔

     جواب : اس اعتراض کے چند جواب ہیں ایک یہ کہ تم بھی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سننے کے قائل ہو کہ جو قبر انور پر سلام پڑھاجاوے وہ سرکار سن لیتے ہیں وہ بھی اس آیت کے خلاف ہوا ۔ دوسرے یہ کہ آیت میں یہ بھی ہے کہ تم اندھوں کو گمراہی سے نہیں نکال سکتے حالانکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بر کت سے ہزاروں اندھے ہدایت پر آگئے۔ تیسرے یہ کہ یہاں قبر والوں او رمردو ں ، اندھوں اور بہروں سے مراد وہ کفار ہیں جن پر مہر ہوچکی جن کے ایمان کی تو قع نہیں اسے خود قرآن کریم بتا رہا ہے۔ چنانچہ تمہاری پیش کردہ انہی آیات کے آخر میں یہ ہے ۔
(1) اِنۡ تُسْمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ مُّسْلِمُوۡنَ ﴿۸۱﴾
تم اس کو سناتے ہو جو ہماری آیتو ں پر ایمان لاویں اور وہ مسلمان ہوں۔(پ20،النمل:81)

    یہ سورہ نمل اور سورہ روم میں دو نوں جگہ ہے اگر وہاں اندھے، بہرے ، مردے سے مراد یہ اندھے اور مردے ہوتے تو ان کے مقابل ایمان اور اسلام کا ذکر کیوں ہوتا ۔ پتا لگا کہ اس سے دل کے مردے، دل کے اندھے مراد ہیں۔ انہیں مردہ بہرہ اس لئے فرمایا کہ جیسے مردے پکار سے نفع او رنصیحت حاصل نہیں کرتے ۔ایسے ہی یہ لوگ ہیں نیز قرآن کریم کا فروں کے بارے میں فرماتا ہے :
Flag Counter