Brailvi Books

علمُ القرآن
209 - 244
    اعتراض: حضو رصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو جو نماز و غیرہ میں سلام کیا جاوے اس میں یہ نیت نہ ہو کہ آپ سن رہے ہیں بلکہ جیسے کسی سے سلام کہلاکر بھیجتے ہیں یا کسی کو خط میں سلام لکھتے ہیں ایسے ہی سلام کیا جائے کیونکہ دور کے آدمی کا سلام فرشتے پہنچا تے ہیں او رپاس والے کا سلام خود حضور سنتے ہیں جیسا کہ حدیث شر یف میں ہے۔(وہابی)

    جواب : اس کے چند جواب ہیں ایک یہ کہ تمہارے عقیدے کے یہ بھی خلاف ہے کہ تم تو کہتے ہو کہ مردے سنتے ہی نہیں اور آیات پیش کرتے ہو اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر انور میں سے سن لیا تو تمہارے قول کے خلاف ہوگیا ۔ دو سرے یہ کہ جب کسی کے ہاتھ سلام کہہ کر بھیجتے ہیں تو اسے خطاب کر کے السلام علیکم نہیں کہتے بلکہ جانے والے کو کہتے ہیں کہ ہمارا سلام کہہ دینا ہم لوگ نماز وغیرہ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو خط تو لکھتے نہیں تمہارے قول کے مطابق فرشتوں سے کہلا کر بھیجتے ہیں تو اس صورت میں یہ نہ کہا جاتا کہ اے نبی تم پر سلام ہو بلکہ یوں کہا جانا چاہئے کہ اے فرشتو! حضور سے ہمارا سلام کہنا،خطاب فرشتوں سے ہونا چاہیے تھا۔ تیسرے یہ کہ تمہاری پیش کردہ حدیث میں یہ نہیں ہے کہ دور والے کاسلام نہیں سنتے صرف یہ ہے کہ دور والے کا سلام ملائکہ پیش کرتے ہیں ہو سکتا ہے کہ ملائکہ بھی پیش کرتے ہوں اورسرکار خود بھی سنتے ہوں، جیسے کہ فرشتے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں بندوں کے اعمال پیش کرتے ہیں تو خدا کیا ان کے اعمال خود نہیں جانتا ضرور جانتا ہے مگر پیشی بھی ہوتی ہے ۔

    اعتراض:مردے نہیں سنتے قرآن کریم فرما رہاہے:
(1) وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسْمِعٍ مَّنۡ فِی الْقُبُوۡرِ ﴿۲۲﴾
تم قبر والوں کو نہیں سنا سکتے ۔(پ22،فاطر:22)
(2) اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیۡنَ ﴿۸۰﴾وَمَاۤ اَنۡتَ بِہٰدِی الْعُمْیِ عَنۡ ضَلٰلَتِہِمْ ؕ
Flag Counter