(3) اَوَ مَنۡ کَانَ مَیۡتًا فَاَحْیَیۡنٰہُ وَجَعَلْنَا لَہٗ نُوۡرًا یَّمْشِیۡ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمَنۡ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیۡسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا ؕ کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْکٰفِرِیۡنَ مَا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾
اور کیا وہ جو مردہ تھا تو ہم نے اسے زندہ کردیا اور اس کے لئے ایک نور کردیا جس سے لوگوں میں چلتا ہے وہ اس جیسا ہوگا جواندھیروں میں ہے ان سے نکلنے والا نہیں یوں ہی کافروں کی آنکھ میں ان کے اعمال بھلے کردیئے گئے ہیں۔(پ8،الانعام:122)
اس آیت میں مردے سے مراد کافر ، زندگی سے مراد ہدایت ، اندھیروں سے مراد کفر، روشنی سے مراد ایمان ہے۔ یہ آیت تمہاری پیش کردہ آیات کی تفسیر ہے ۔(4) وَمَنۡ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعْمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعْمٰی وَ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿۷۲﴾
جواس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہے اور راستے سے بہکا ہوا ہے ۔(پ15،بنی اسرآء یل:72)
ا س میں بھی اندھے سے مراد دل کا اندھا ہے نہ کہ آنکھ کا اندھا ، بہر حال جن آیتوں میں اندھوں ، مردو ں ، بہروں کے نہ سننے نہ ہدایت پانے کا ذکر ہے ۔ وہاں کفار مراد ہیں بلکہ مردے مدد بھی کرتے ہیں آیات ملاحظہ ہوں ۔(1) وَ اِذْ اَخَذَ اللہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنۡصُرُنَّہٗ ؕ
اور وہ وقت یا د کرو جب اللہ نے نبیوں کا عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تمہارے پاس رسول تشریف لاویں جوتمہاری کتابوں کی تصدیق کریں تو تم ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا ۔(پ3،اٰل عمرٰن:81)