| علمُ القرآن |
جواب : اس کاآسان جواب تویہ ہے کہ انبیاء کی تمام قوتیں اللہ تعالیٰ کی مشیت میں ہیں جب چاہتا ہے تب انہیں ادھر متوجہ کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے ادھر متوجہ نہیں فرماتا ۔ بے علمی او ر ہے بے تو جہی کچھ اور۔ تحقیقی جواب یہ ہے کہ یعقوب علیہ السلام کا گر یہ عشق الٰہی میں تھا یوسف علیہ السلام اس کا سبب ظاہر ی تھے مجاز حقیقت کا پل ہے ورنہ آپ یوسف علیہ السلام کے ہر حال سے واقف تھے خود قرآن کریم نے ان کے کچھ قول ایسے نقل فرمائے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتے تھے ۔ فرماتا ہے ۔
(1) قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْکُوۡا بَثِّیۡ وَحُزْنِیۡۤ اِلَی اللہِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۸۶﴾ یٰبَنِیَّ اذْہَبُوۡا فَتَحَسَّسُوۡا مِنۡ یُّوۡسُفَ وَاَخِیۡہِ وَلَا تَایۡـَٔسُوۡا مِنۡ رَّوْحِ اللہِ ؕ
میں اپنی پر یشانی او رغم کی فریاد اللہ سے کرتاہوں اوراللہ کی طر ف سے وہ باتیں جانتا ہوں جوتم نہیں جانتے اے بچو!جاؤ یوسف او راس کے بھائی کا سراغ لگاؤاور اللہ سے ناامید نہ ہو۔(پ13،یوسف:86،87)
(2) عَسَی اللہُ اَنۡ یَّاۡتِـیَنِیۡ بِہِمْ جَمِیۡعًا ؕ
قریب ہے کہ اللہ ان تینوں یہود ا،بنیامین، یوسف کو میرے پاس لائے گا ۔(پ13،یوسف:83)
پہلی آیت میں فرمایا گیا کہ برادارن یوسف علیہ السلام بنیامین کو مصر میں چھوڑ کر آئے تھے مگر آپ فرماتے ہیں یوسف اور اس کے بنیامین بھائی کا سراغ لگاؤ یعنی وہ دونوں ایک ہی جگہ ہیں دوسری آیت سے معلوم ہو اکہ دو بارہ مصر میں بظاہر یہودا اور بینا مین دو نوں گئے تھے مگر آپ فرماتے ہیں کہ اللہ ان تینوں کو میرے پاس لائے گا تیسرے کو ن تھے وہ یوسف علیہ السلام ہی تو تھے ۔