Brailvi Books

علمُ القرآن
205 - 244
(3) وَکَذٰلِکَ یَجْتَبِیۡکَ رَبُّکَ وَیُعَلِّمُکَ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ
اے یوسف تمہیں اللہ اسی طر ح نبوت کے لئے چنے گا او ر تمہیں باتوں کا انجام بتائے گا۔(پ12،یوسف:6)

    خود تعبیر دے چکے ہیں کہ تم نبی بنوگے اور علم تعبیر دیئے جاؤگے اور ابھی تک وہ تعبیر ظاہر نہ ہوئی تھی اور آپ جانتے تھے کہ یہ خواب سچا ہے ضرور ظاہر ہوگا ۔

اعتراض: حضرت سلیمان علیہ السلام کو بلقیس کے ملک کی خبر نہ ہوئی ہدہد نے کہا
اَحَطۡتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِہٖ وَ جِئْتُکَ مِنۡ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیۡنٍ ﴿۲۲﴾
میں وہ بات دیکھ آیا ہوں جو آپ نے نہ دیکھی اورمیں آپ کے پاس سبا سے سچی خبر لایا ہوں ۔(پ19،النمل:22)

اس کے جواب میں آپ نے فرمایا :
قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ کُنۡتَ مِنَ الْکٰذِبِیۡنَ ﴿۲۷﴾
فرمایا اب ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا یا تو جھوٹوں میں سے ہے ۔(پ19،النمل:27)

    اگر آپ ملک بلقیس سے واقف ہوتے تو بلقیس کے پاس خط بھیج کر یہ تحقیق کیوں فرماتے کہ ہدہد سچا ہے یا جھوٹا معلوم ہوا کہ آپ بلقیس سے بے خبر تھے اور ہدہد خبر دار تھا پتا لگا کہ نبی کے علم سے جانور کا علم زیادہ ہوسکتا ہے۔( وہابی دیوبندی)

     جواب : ان آیات میں رب تعالیٰ نے کہیں نہ فرمایا کہ سلیمان علیہ السلام کو علم نہ تھا ہدہد نے بھی آکر یہ نہ کہا کہ آپ کو بلقیس کی خبر نہیں وہ کہتا ہے
اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ
میں وہ چیز دیکھ کرآیاجو آپ نے نہ دیکھی۔ یعنی نہ آپ وہاں گئے تھے نہ دیکھ کر آئے تھے۔ یہ کہاں سے پتا لگا کہ آپ بے خبر بھی تھے اگر بے خبر ہوتے تو جب آصف کوحکم دیا کہ بلقیس کا تخت لاؤ تو آصف نے کہا کہ حضور میں نے وہ جگہ دیکھی نہیں نہ مجھے خبر ہے کہ
Flag Counter