Brailvi Books

علمُ القرآن
203 - 244
(1) اَلَمْ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ﴿۶﴾
کیا نہ دیکھا آپ نے اے محبوب کہ آپ کے رب نے قوم عاد سے کیا کیا؟(پ30،الفجر:6)

    اصحاب فیل کی تباہی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت شریف سے چالیس دن پہلے ہے اور قوم عاد وثمود پر عذاب آنا حضور کی ولاد ت شریف سے ہزاروں بر س پہلے ہے لیکن ان دونوں قسم کے واقعوں کے لئے رب تعالیٰ نے استفہام انکاری کے طور پر فرمایا:''اَلَمْ تَرَ''کیا آپ نے یہ واقعات نہ دیکھے یعنی دیکھے ہیں معلوم ہو ا کہ نبی کی نظر گذشتہ آئندہ سب کو دیکھتی ہے اس لئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے معراج کی رات دوزخ میں مختلف قوموں کو عذاب پاتے دیکھا ۔ حالانکہ ان کا عذاب پانا قیامت کے بعد ہوگا ۔ اس لئے رب تعالیٰ نے فرمایا :
(2) سُبْحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الۡاَقْصَا الَّذِیۡ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ البَصِیۡرُ ﴿۱﴾
پاک ہے وہ اللہ جو راتوں رات لے گیا اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصی تک جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے تا کہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں بے شک وہ بندہ سننے والا دیکھنے والاہے ۔(پ15،بنی اسرآء یل:1)

    معلوم ہو اکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نظر نے اگلے پچھلے واقعات ،اللہ کی ذات ،صفات ، نشانیاں، قدرت سب کو دیکھا ۔

     اعتراض: یعقوب علیہ السلام کی نظر او رقوت شامہ اگر اتنی تیز تھی کہ مصر کے حالات معلوم کرلیئے تو چالیس سال تک فراق یوسف میں کیوں روتے رہے ان کے رونے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ یوسف علیہ السلام سے بے خبر تھے ۔
Flag Counter