Brailvi Books

علمُ القرآن
202 - 244
(4) اِنَّہٗ یَرٰىکُمْ ہُوَ وَقَبِیۡلُہٗ مِنْ حَیۡثُ لَا تَرَوْنَہُمْ ؕ
وہ ابلیس اور اس کا قبیلہ تم سب کو دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے۔(پ8،الاعراف:27)
(1) قُلْ یَتَوَفّٰىکُمۡ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیۡ وُکِّلَ بِکُمْ
فرمادو تم سب کو موت کا فرشتہ موت دیگا جوتم پر مقرر کیا گیا ہے ۔(پ21،السجدۃ:11)

    شیطان اور اس کی ذریت کو گمراہ کرنے کے لئے ،ملک الموت کو جان نکالنے کے لئے یہ طاقت دی کہ عالم کے ہر انسان بلکہ ہر جاندار کو دیکھ لیتے ہیں تو انبیاء واولیاء کو جو رہبر و ہادی ہیں سارے عالم کی خبر ہونا لازم ہے تا کہ دوا کی طا قت بیماری سے کم نہ ہو۔
(2) وَ اَذِّنۡ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاۡتُوۡکَ رِجَالًا وَّعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ
اورلوگوں کو حج کا اعلان سنا دو وہ آئیں گے تمہارے پاس پیدل اور ہر اونٹنی پر ۔(پ17،الحج:27)

ابراہیم علیہ السلام کی آواز تمام انسانوں نے سنی جو قیامت تک ہونے والے ہیں ۔
(3) وَکَذٰلِکَ نُرِیۡۤ اِبْرٰہِیۡمَ مَلَکُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَلِیَکُوۡنَ مِنَ الْمُوۡقِنِیۡنَ ﴿۷۵﴾
اوراس طر ح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں آسمانوں او رزمین کی بادشاہت اور اس لئے کہ وہ عین الیقین والوں میں سے ہوجائیں۔(پ7،الانعام:75)

    اس آیت سے معلوم ہواکہ ابراہیم علیہ السلام کی آنکھوں کو رب تعالیٰ نے وہ بینائی بخشی کہ انہوں نے''تحت الثرٰی''سے ''عرش اعلیٰ'' تک دیکھ لیا۔ کیونکہ خدا کی بادشاہی تو ہر جگہ ہے اور ساری بادشاہی انہیں دکھائی گئی ۔
(4) اَلَمْ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیۡلِ ؕ﴿۱﴾
کیا نہ دیکھا آپ نے کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں سے کیا کیا ؟(پ30،الفیل:1)
Flag Counter