| علمُ القرآن |
میں کچل دیں۔'' اس سے مراد بے علمی نہیں ہے بلکہ ان کا عد ل وانصاف بتا نا مقصو د ہے کہ وہ بے قصور چیونٹی کوبھی نہیں مارتے ۔اگر تم کچلی گئیں تو اس کی وجہ صرف ان کی بے تو جہی ہوگی کہ تمہارا خیال نہ کریں اور تم کچلی جاؤ ۔
(1) وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِیۡرُ قَالَ اَبُوۡہُمْ اِنِّیۡ لَاَجِدُ رِیۡحَ یُوۡسُفَ لَوْ لَا اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ ﴿۹۴﴾
جب قافلہ مصر سے جدا ہوا یہاں ان کے باپ نے کہا کہ بے شک میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں اگر تم مجھے سٹھا ہوا نہ کہو۔(پ13،یوسف:94)
یعقوب علیہ السلام کنعان میں ہیں او ریوسف علیہ السلام کی قمیص مصر سے چلی ہے اور آپ نے خوشبو یہاں سے پالی ۔ یہ نبوت کی طا قت ہے ۔(2) قَالَ الَّذِیۡ عِنۡدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتٰبِ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبْلَ اَنۡ یَّرْتَدَّ اِلَیۡکَ طَرْفُکَ ؕ
اس نے کہا جس کے پاس کتا ب کا علم تھا کہ میں اسے آپ کے پاس حاضر کردوں گا آپ کے پلک مارنے سے پہلے ۔(پ19،النمل:40)
آصف شام میں ہیں اور بلقیس کا تخت یمن میں اور فوراً لانے کی خبر دے رہے ہیں اور لانا جانے کے بغیر ناممکن ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ اس تخت کو یہاں سے دیکھ رہے ہیں یہ ہے ولی کی نظر ۔(3) وَاُنَبِّئُکُمۡ بِمَا تَاۡکُلُوۡنَ وَمَا تَدَّخِرُوۡنَ ۙ فِیۡ بُیُوۡتِکُمْ ؕ
عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تمہیں خبر دیتا ہوں اس کی جو تم اپنے گھروں میں کھاتے ہو اور جو جمع کرتے ہو۔(پ3،اٰل عمرٰن:49)
عیسیٰ علیہ السلام کی آنکھ گھروں کے اندر جو ہو رہا ہے اسے دور سے دیکھ رہی ہے کہ کون کھا رہا ہے اور کیا رکھ رہاہے یہ ہے نبی کی قوت نظر۔