ہم نے کہا کہ تم یہاں سے نکل جاؤ۔ (پ۱،البقرۃ:۳۸) غرضیکہ دو نوں کو دیس نکالے کی سزادی ہاں پھر آدم علیہ السلام نے تو بہ کرلی اور ابلیس نے توبہ نہ کی ۔ میں نے اس مرتد کو بہت سے جوابات دیئے مگر وہ یہ ہی کہتا رہا کہ میں قرآن پیش کر رہا ہوں کسی بزرگ ، عالم ،صوفی کے قول یا حدیث ماننے کو تیار نہیں ۔ آخر کار میں نے اسے کہا کہ بتا رب تعالیٰ بھی بے عیب ہے کہ نہیں؟بولا:ہاں!وہ بالکل بے عیب ہے،میں نے کہا کہ قرآن مجید میں ہے کہ خدا میں عیب بھی ہیں اور خدا چند ہیں۔خدا کے دادا بھی ہیں ۔ چنانچہ فرمایا ہے:
وَمَکَرُوۡا وَمَکَرَ اللہُ ؕ وَاللہُ خَیۡرُ الْمٰکِرِیۡنَ ﴿٪۵۴﴾
کفار نے فریب کیا اور خدا نے فریب کیا خدا اچھا فریب کرنے والا ہے ۔(پ۳،اٰل عمرٰن:۵۴) معا ذ اللہ ! دو سرے مقام پر فرماتا ہے:
یُخٰدِعُوۡنَ اللہَ وَہُوَ خَادِعُہُمْ ۚ
یہ خدا کو دھوکا دیتے ہیں اور خدا انہیں دھوکادیتا ہے (پ۵،النساء:۱۴۲)۔ دیکھو دھوکا ، فریب دہی، نمبر ۱۰ کے عیب ہیں مگر قرآن میں خدا کے لئے ثابت ہیں۔ اور فرماتا ہے :
وَاَنَّہ، تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا
ہمارے رب کا دادا بڑا خاندانی ہے ۔ (پ۲۹،الجن:۳) خدا کا دادا ثابت ہوا ۔اور فرماتا ہے:
فَتَبٰرَکَ اللہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾
اللہ برکت والا ہے جو تمام خالقوں سے اچھا ہے۔ (پ۱۸،المؤمنون:۱۴) معلوم ہوا کہ خالق بہت سے ہیں۔جب ترجمہ لفظی پر ہی معاملہ ہے تو اب رب کے لئے کیاکہے گا؟تب وہ خاموش ہواہم نے اس سے جو گفتگو کی وہ اپنی کتاب '' قہر کبریا بر منکرین عصمت انبیاء '' میں لکھ دی ہے جو جاء الحق کے ساتھ بطور ضمیمہ شائع ہوچکی ہے۔ دیکھا آپ نے ان اندھا دھند ترجموں کا یہ نتیجہ ہے۔