موسی علیہ السلام نے فرمایا اچھا جا تیری سزا دنیا کی زندگی میں یہ ہے کہ تو کہتا پھر یگا کہ چھونہ جانا اور بے شک تیرے لئے ایک وعدے کا وقت ہے جوتجھ سے خلاف نہ ہوگا (پ16،طہ:97)
موسیٰ علیہ السلام سامری سے ناراض ہوگئے کیونکہ اس نے بچھڑا بنا کر لوگوں کو مشرک کردیا تھا توآپ کے منہ سے نکل گیا جا تیرے جسم میں یہ تاثیرپیدا ہوجائے گی کہ جس سے تو چھوجاوے تو اسے بھی بخا ر آجاوے او رتجھے بھی ایسا ہی ہواو روہ لوگوں سے کہتا پھرتا تھا کہ مجھے کوئی نہ چھونا اور فرمایا کہ یہ تو دنیا کی سزا ہے ۔ آخرت کی سزا اس کے علاوہ ہے۔
(2) وَ اَمَّا الۡاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاۡکُلُ الطَّیۡرُ مِنۡ رَّاۡسِہٖ ؕ قُضِیَ الۡاَمْرُ الَّذِیۡ فِیۡہِ تَسْتَفْتِیٰنِ ﴿ؕ۴۱﴾
اور لیکن دوسرا قید ی پس سولی دیا جائیگا او رپھر پرندے اس کا سر کھائیں گے فیصلہ ہوچکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے ہو۔(پ12،یوسف:41)