Brailvi Books

علمُ القرآن
194 - 244
انہیں حکم تھا کہ جنگ میں اسے اپنے سامنے رکھیں فتح ہوگی۔ اس آیت میں یہی واقعہ مذکور ہے جس سے معلوم ہوا کہ بزرگو ں کے تبر کات ان کی وفات کے بعد دافع البلاء ہیں خیال رہے مٹی سے جان پڑنا تبر کات سے فتح ہونا مافوق الاسباب مدد ہے ۔
(1) وَمَا کَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنۡتَ فِیۡہِمْ ؕ
اور اللہ تعالیٰ انہیں عذاب نہیں دے گا حالانکہ آپ ان میں ہیں ۔(پ9،الانفال:33)
(2) لَوْ تَزَیَّلُوۡا لَعَذَّبْنَا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنْہُمْ
اگر مسلمان مکہ سے نکل جاتے تو ہم کافروں پر عذاب بھیجتے ۔(پ26،الفتح:25)
(3) فَاَخْرَجْنَا مَنۡ کَانَ فِیۡہَا مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿ۚ۳۵﴾
پس نکال دیا ہم نے قوم لوط کی بستی سے ان مومنوں کو جو وہا ں تھے ۔(پ27،الذٰریت:35)

    ان آیات میں فرمایا کہ دنیا پر عذاب نہ آنے کی وجہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا تشریف فرما ہونا ہے نیز مکہ والوں پر فتح مکہ سے پہلے اس لئے عذاب نہ آیا کہ وہا ں کچھ غریب مسلمان تھے قوم لوط پر عذاب جب آیا تو مومنین کو وہاں سے پہلے ہی نکال دیا معلوم ہو اکہ انبیاء کرام علیہم السلام او رمومنین کے طفیل سے عذاب الٰہی نہیں آتا۔ یہ حضرات دافع البلاء ہیں بلکہ آج بھی ہمارے اس قدر گناہوں کے باوجود جو عذاب نہیں آتا یہ سب اس سبز گنبد کی بر کت سے ہے ۔ اعلیٰ حضرت نے کیا خوب فرمایا ؎
تمہیں حاکم برایا تمہیں قاسم عطایا		تمہیں دافع بلایا تمہیں شافع خطایا

 			کوئی تم سا کون آیا
    اعتراض: قرآن شریف سے ثابت ہے کہ بہت دفعہ پیغمبر وں نے کسی کو دعا یا بد دعا دی ۔ مگر قبول نہ ہوئی پھر وہ مشکل کشا،دافع البلا کیسے ہوئے؟
Flag Counter