Brailvi Books

علمُ القرآن
196 - 244
    یوسف علیہ السلام سے جیل میں ایک قیدی نے اپنا خواب بیان کیا آپ نے تعبیر دی کہ تجھے سولی ہوگی ۔ وہ بولا کہ میں نے خواب تو کچھ بھی نہ دیکھا تھا میں تو مذاق میں کہتا تھا آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تو نے خواب دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو جو میرے منہ سے نکل گیا وہ رب تعالیٰ کے ہاں فیصلہ ہوگیا،پتا لگا کہ ان کی زبان رب کا قلم ہے ۔
(1) رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤی اَمْوَالِہِمْ وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ فَلَا یُؤْمِنُوۡا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ ﴿۸۸﴾
موسی علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے ہمارے رب فرعونیوں کے مال برباد کردے اور ان کے دل سخت کردے پس یہ نہ ایمان لاویں جب تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیں ۔(پ11،یونس:88)

    موسیٰ علیہ السلام نے فرعونیوں کے لئے تین بد دعائیں کیں ایک یہ کہ ان کے مال ہلاک ہو جائیں ۔ دوسرے اپنے جیتے جی یہ ایمان نہ لاویں ۔ تیسرے یہ کہ مرتے وقت ایمان لاویں اور پھر ایمان قبول نہ ہو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ فرعونیوں کا روپیہ پیسہ، پھل، غلہ سب پتھر ہوگیا اور ایمان کی توفیق زندگی میں نہ ملی ۔اور ڈوبتے وقت فرعون ایمان لایا اور بولا
اٰمَنْتُ بِرَبِّ مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ
میں حضرت موسی اور ہارون کے رب پر ایمان لاتا ہوں مگر ایمان قبول نہ ہوا۔ دیکھو فرعون کے سواکوئی کافر قوم ایمان لاکر نہ مری جو کلیم اللہ علیہ السلام کے منہ سے نکلا وہ ہی ہو ا۔
(1) وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اجْعَلْ ہٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَہۡلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ
جب ابراہیم نے عرض کیا کہ مولیٰ اس جگہ کو امن والا شہر بنادے اور یہاں کے باشندوں کوطر ح طر ح کے پھل دے ۔(پ1،البقرۃ:126)
(2) وَمِنۡ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ ۪
ابراہیم نے دعا کی کہ ہماری اولاد میں ہمیشہ ایک جماعت فرمانبردار رکھ۔(پ1،البقرۃ:128)
Flag Counter