| علمُ القرآن |
پاؤں زمین پر رگڑو ۔ رگڑنے سے پانی کا چشمہ پیدا ہوا ۔ فرمایا اسے پی لو ۔ اور غسل فرمالو۔ پینے سے اندرونی تکلیف دور ہوئی اور غسل سے بیرونی بیماری کو شفا ہوئی معلوم ہوا کہ پیغمبر وں کے پاؤں کا دھوون اللہ کے حکم سے شفا ہے ۔ آج آب زمزم اس لئے شفا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑی سے پیدا ہوا ۔ مدینہ پاک کی مٹی کو خاک شفا کہتے ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں مبارک سے مس ہوگئی معلوم ہوا کہ بزرگ دافع بلا ہیں او ریہ بر کتیں مافو ق الاسباب ہیں۔
(1) فَقَبَضْتُ قَبْضَۃً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوۡلِ فَنَبَذْتُہَا وَکَذٰلِکَ سَوَّلَتْ لِیۡ نَفْسِیۡ ﴿۹۶﴾
پس میں نے فر شتے کے اثرسے ایک مٹھی مٹی لے لی پس یہ مٹی اس بچھڑے میں ڈالدی میرے دل نے یہی چاہا ۔(پ16،طہ:96)
سامری نے حضرت جبریل علیہ السلام کی گھوڑی کے ٹاپ کے نیچے کی خاک اٹھالی اور سونے کے بچھڑے کے منہ میں ڈالی جس سے اس میں زندگی پیدا ہوگئی اور وہ آواز کرنے لگا یہ ہی اس آیت میں مذ کورہے معلوم ہو اکہ بزرگو ں کے تبرکات بے جان دھات میں جان ڈال سکتے ہیں باذن اللہ !(1) اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ التَّابُوۡتُ فِیۡہِ سَکِیۡنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوۡسٰی وَاٰلُ ہٰرُوۡنَ تَحْمِلُہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ
نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس صندوق آوے گا جس میں تمہارے رب کی طر ف سے دل کاچین ہے او رکچھ بچی ہوئی چیز یں ہیں معزز موسی او رمعزز ہارون کے ترکہ کی اٹھائے لائیں گے اسے فر شتے ۔(پ2،البقرۃ:248)
بنی اسرائیل کو ایک صندو ق رب تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا تھا جس میں حضرت موسی علیہ السلام کی پگڑی ، حضرت ہارون علیہ السلام کی نعلین شریف وغیرہ تھے اور