| علمُ القرآن |
براہ راست انہیں پانی نہ دیا بلکہ موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ آپ ان کے لئے دافع البلا بن جائیں تاکہ انہیں پانی ملے معلوم ہوا کہ اللہ کے بندے بحکم الٰہی پیاس کی بلا دور کرتے ہیں مافوق الاسباب ۔
(3) قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّکِ ٭ۖ لِاَہَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا
جبریل نے مریم سے کہا کہ میں تمہارے رب کا قاصد ہوں آیا ہوں تا کہ تمہیں ستھرا بیٹا دوں ۔(پ16،مریم:19)
معلوم ہوا کہ حضر ت جبریل علیہ السلام اللہ عزوجل کے حکم سے بیٹا بخشتے ہیں یعنی بندوں کی حاجتیں پوری کرتے ہیں۔(1) وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾
اے محبوب اگر یہ مجرم لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر کے آپ کے پاس آجاویں اور خدا سے مغفرت مانگیں اور آپ بھی ان کی سفارش کریں تو اللہ کوتوبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔(پ5،النساء:64)
ا س آیت نے بتا یاکہ جو گناہو ں کی بیماری میں پھنس جاوے وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے شفاخانہ میں پہنچے وہاں شفا ملے گی آپ دافع البلاء ہیں اور مافوق الاسباب گناہ بخشوادیتے ہیں۔(2) اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ۚ ہٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ ﴿۴۲﴾
اے ایوب زمین پر اپنا پاؤں مارو یہ ہے ٹھنڈا چشمہ نہانے اور پینے کو ۔(پ23،ص:42)
ایوب علیہ السلام کی بیماری اس طر ح دور فرمائی گئی کہ ان سے فرمایا گیا ۔ اپنا