| علمُ القرآن |
اوربے شک زلیخا نے قصد کرلیا یوسف کا اور یوسف علیہ السلام بھی ارادہ کرلیتے اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھتے ۔(پ12،یوسف:24)
یوسف علیہ السلام کو زلیخا نے سات کو ٹھڑیوں میں بند کر کے اپنی طرف مائل کرنا چاہا تو آپ نے سامنے یعقوب علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ اشارے سے منع فرمارہے ہیں جس سے آپ کے دل میں ادھر میلان نہ پیدا ہو ا۔ یہ رب تعالیٰ کی بر ہان تھی جس کا ذکر اس آیت میں ہے تو یعقوب علیہ السلام نے کنعان سے بیٹھے ہوئے مصر کی بندکوٹھڑی میں یوسف علیہ السلام کی یہ مدد کی کہ انہیں بڑی آفت اور ارادہ گناہ سے بچالیا۔ یہ ہے اللہ والوں کی مشکل کشائی اور مافوق الاسباب امداد ۔(1) وَاُبْرِیُٔ الۡاَکْمَہَ وَالۡاَبْرَصَ وَاُحۡیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللہِ ۚ
عیسی علیہ السلام نے کہا کہ میں اللہ کے حکم سے شفادیتاہوں مادرزاداندھوں اور کوڑھیوں کو اور مردو ں کو زندہ کرتا ہوں ۔(پ3،ال عمرٰن:49)
اندھا،کوڑھی ہونا بلاہے جسے عیسی علیہ السلام اللہ کے حکم سے دفع کردیتے ہیں لہٰذا اللہ کے پیارے دافع البلا ہوتے ہیں یعنی مافوق الاسباب مشکل کشائی فرماتے ہیں۔(2) فَقُلْنَا اضْرِبۡ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ ؕ فَانۡفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیۡنًا ؕ
ہم نے موسی علیہ السلام سے کہا کہ اپنی لاٹھی سے پتھر کو ماروپس فوراً اس پتھر سے بارہ چشمے جاری ہوگئے ۔(پ1،البقرۃ:60)
بنی اسرئیل تیہ کے میدان میں پیا س کی آفت میں پھنسے تو رب تعالیٰ نے