ہم مریں گے اور جئیں گے(پ25،الجاثیۃ:24)
(4) خَلَقَ الْاَرْضَ وَالسَّمٰوٰتِ الْعُلٰی ؕ﴿۴﴾
اللہ نے پیدا کیا زمین کو اور اونچے آسمانوں کو ۔(پ16،طہ:4)
(5) خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوۃَ
اس اللہ نے پیدا کیا موت اور زندگی کو۔(پ29،الملک:2)
(6) وَ لَقَدْ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنْ قَبْلِکَ ۚ
اور بے شک وحی کی گئی تمہاری طرف اور ان پیغمبر وں کی طر ف جو تم سے پہلے تھے ۔(پ24،الزمر:65)
ان تمام آیتوں میں واؤ ترتیب کے خلاف ہے ۔ ایسے ہی اس آیت میں ہے اور اگر واؤیہاں ترتیب بتائے تب
میں جو وفات یا تو فّی مذکورہے ۔ اس سے موت مراد نہیں سلانا یا پورا لینا مراد ہے قرآن شریف میں یہ لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے تو معنی یہ ہوئے کہ اے عیسی میں تمہیں سلا کر اپنی طر ف اٹھاؤں گا یا میں تمہیں پورا پورا جسم مع روح اپنی طرف اٹھاؤں گا ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اِبْرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤی ﴿ۙ۳۷﴾
یہاں وَفّٰی کے معنی ہیں پورا کیا۔ فرماتا ہے:
یَتَوَفّٰکُمْ بِالَّیْلِ وَیَعْلَمُ مَاجَرَحْتُمْ بِالنَّھَارِ(پ27،النجم:37)
یہاں وفات کے معنی سلانا ہیں یعنی رب تعالیٰ تم کو رات میں سلا دیتا ہے، وہی معنی یہاں مراد ہیں۔