Brailvi Books

علمُ القرآن
179 - 244
     اعتراض: اگر اس آیت میں مکانی بلندی مراد ہے تو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کسی جگہ یعنی آسمانوں میں رہتا ہو کیونکہ فرمایا گیا ہے رَافِعُکَ اِلَیَّ اپنی طرف اٹھانے والا ہوں خدا کی طرف کونسی ہے ؟

    جواب: یہاں خدا کی طر ف اٹھانے سے مراد آسمان کی طر ف اٹھانا ہے کیونکہ اگرچہ زمین وآسمان ہر چیز خدا تعالیٰ ہی کی ہے لیکن آسمان خصوصیت سے تجلی گاہ الٰہی ہے کہ نہ وہاں کسی کی ظاہری بادشاہت ہے نہ کفر و شرک وگناہ لہذا آسمان پر جانا گویا خدا کے پاس جانا ہے ۔ اسی لئے فرمایا گیا:
ء اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ
(پ۲۹،الملک:۱۶)  یا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا :
اِنِّیۡ ذَاہِبٌ اِلٰی رَبِّیۡ سَیَہۡدِیۡنِ ﴿۹۹﴾
 میں اپنے رب کی طرف جارہا ہوں وہ مجھے ہدایت کریگا (پ۲۳،الصّٰفٰت:۹۹) حالانکہ آپ شام کے ملک میں جارہے تھے مگر چونکہ شام آپ کا عبادت گاہ تھا ۔ اس لئے وہاں جانا رب کے پاس جانا قراردیا گیا ۔ اسی لئے مسجدوں کو اللہ کا گھر کہا جاتا ہے خدا وہاں رہتا نہیں مگر چونکہ وہاں کسی کاکام نہیں ہوتا اور نہ مسجد کسی انسان کی ملک ہے ۔لہٰذا وہ خدا کا گھر ہے ۔

اعتراض : اس آیت میں فرمایا گیا:
اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ
میں تمہیں وفات دوں گا اور اٹھاؤں گا۔ (پ۳،ال عمرٰن:۵۵)یہاں وفات کا ذکر پہلے ہے اور اٹھانے کا ذکر بعد میں معلوم ہواکہ عیسی علیہ السلام کو موت کے بعد اٹھایا گیا نہ کہ موت سے پہلے۔ (قادیانی)

جواب: اگر یہاں وفات کے معنی موت مان لئے جا ئیں تو بھی واؤ کیلئے ترتیب لازم نہیں بہت جگہ ترتیب کے خلاف ہوتا ہے ۔لہٰذا یہاں معنی یہ ہوئے کہ میں پہلے تمہیں اٹھاؤں گا پھر موت دو ں گا جیسا کہ ان آیتوں میں ہے ۔
Flag Counter