Brailvi Books

علمُ القرآن
178 - 244
(4) وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰہٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیۡتِ
اورجب ابراہیم بیت اللہ کی دیوار یں اونچی کر رہے تھے ۔(پ1،البقرۃ:127)

    ان آیتوں میں چونکہ رفع کا مفعول عیسی علیہ السلام یا یوسف علیہ السلام کے والدین یا طور پہاڑ یاکعبہ کی دیوار ہے اور یہ سب زمینی جسم ہیں لہٰذاان میں رفع کرنے کے معنی ہونگے بلند جگہ میں پہنچا نا ، اٹھانا، اونچا کرنا ۔ درجے بلند کرنا مراد نہ ہوگا ۔

''ب'' کی مثال یہ آیت ہے :
(1) وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ ؕ﴿۴﴾
ہم نے آپ کا ذکر اونچا کردیا ۔(پ30،الانشراح:4)
(2) مِنْہُمۡ مَّنۡ کَلَّمَ اللہُ وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍ ؕ
ان پیغمبر وں میں بعض وہ ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا اور بعض کے درجے اونچے کئے ۔(پ3،البقرۃ:253)
(3) فِیۡ بُیُوۡتٍ اَذِنَ اللہُ اَنۡ تُرْفَعَ وَ یُذْکَرَ فِیۡہَا اسْمُہٗ
ان گھروں میں جنہیں بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ور ان میں اللہ کانام لیا جاتا ہے ۔(پ18،النور:36)

     ان تمام آیتوں میں چونکہ رفع کا مفعول زمینی جسم نہیں ہے بلکہ ذکر یا درجے یا خداتعالیٰ کانام ہے اس لئے یہاں مکانی بلندی مراد نہ ہوگی بلکہ روحانی بلندی مراد ہے، کیونکہ یہ ہی اس کے لائق ہے لہٰذا عیسی علیہ السلام کے بارے میں جو آیت آئی
اِنِّیْ رَافِعُکَ
(اٰل عمرٰن:۵۵) اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم تمہیں آسمان پر اٹھانے والے ہیں یہ نہیں کہ تمہارے درجے بلند کرنے والے ہیں جیسا کہ قادیانی کہتے ہیں کیونکہ عیسی علیہ السلام زمینی جسم ہیں اور جسم کے لئے بلندی مکانی مناسب ہے ۔
Flag Counter