Brailvi Books

علمُ القرآن
177 - 244
(3) اِذْ تَقُوۡلُ لِلَّذِیۡۤ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیۡہِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیۡہِ اَمْسِکْ عَلَیۡکَ زَوْجَکَ
جب آپ کہتے تھے اس سے جس پر اللہ نے انعام کیا اورآپ نے اسے نعمت دی کہ اپنی بیوی کو روکو ۔(پ22،الاحزاب:37)

    ان آیتوں سے پتالگا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم غنی کرتے ہیں نعمت دیتے ہیں ان میں یہ ہی مراد ہے کہ اللہ کے حکم ، اللہ کے ارادہ اور اذن سے نعمتیں بھی دیتے اور فضل بھی کرتے ہیں ۔ لہٰذادونوں قسم کی آیتوں میں تعارض نہیں۔
    قاعدہ نمبر۲۸: رفع کے معانی اور ان کی پہچان
 الف : جب رفع کا مفعول کوئی زمینی جسم ہو تو رفع کے معنی ہوں گے اونچی جگہ میں اٹھانا چڑھانا ، اونچا کرنا۔

    ب: جب رفع کا مفعول کوئی زمینی جسم نہ ہو تو اس کے معنی ہوں گے روحانی بلندی، مرتبہ کا اونچا ہونا ۔

'' الف'' کی مثال یہ آیات ہیں:
 (1) یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا
اے عیسی میں تمہیں وفات دینے والا ہوں اورا پنی طرف اٹھانے والاہوں اور کافروں سے تمہیں پاک کرنیوالا ہوں ۔(پ3، ال عمرٰن:55)
(2) وَرَفَعَ اَبَوَیۡہِ عَلَی الْعَرْشِ
اٹھالیا یوسف نے اپنے ماں باپ کو تخت پر ۔(پ13،یوسف:100)
(3) وَرَفَعْنَا فَوْقَہُمُ الطُّوۡرَ
اور ہم نے بنی اسرائیل کے اوپر طو ر پہاڑ اٹھالیا۔(پ6،نساء:154)
Flag Counter