Brailvi Books

علمُ القرآن
176 - 244
وہاں بعطاء الٰہی،اللہ عزوجل کے ارادے سے غنی کرنا او ردینا مراد ہے ۔

'' الف'' کی مثال یہ ہے:
(1) قُلۡ لَّاۤ اَمْلِکُ لِنَفْسِیۡ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللہُ
تم فرماؤ کہ میں اپنی جان کے بھلے اور برے کا خود مختار نہیں مگر جو اللہ چاہے۔(پ9،الاعراف:188)
(2) وَمَاۤ اُغْنِیۡ عَنۡکُمۡ مِّنَ اللہِ مِنۡ شَیۡءٍؕ
اور میں تم سے دفع نہیں کرسکتا اللہ کے مقابل کوئی چیز (پ13،یوسف:67)
(3) مَّا کَانَ یُغْنِیۡ عَنْہُمۡ مِّنَ اللہِ مِنۡ شَیۡءٍ اِلَّا حَاجَۃً فِیۡ نَفْسِ یَعْقُوۡبَ قَضٰىہَا
یعقوب نہیں دفع کر سکتے تھے ان سے اللہ کی کوئی مصیبت مگر یعقوب کے دل کی حاجت تھی جو پوری کردی ۔(پ13،یوسف:68)

     ان جیسی تمام آیتو ں میں یہ مراد ہے کہ رب تعالیٰ کے اذن کے بغیر میں کچھ نہیں کرسکتا ہر چیز میں اس کی اجازت کا حاجتمند ہوں ۔

''ب'' کی مثال یہ ہے:
(1) اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ
غنی کردیا انہیں اللہ نے اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ۔(پ10،التوبۃ:74)
(2) وَلَوْ اَنَّہُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ
اور اگر وہ راضی ہوتے اس پر جو انہیں اللہ اور اس کے رسول نے دیا ۔(پ10،التوبۃ:59)
Flag Counter