| علمُ القرآن |
اور حرام ہے وہ جانور جو بتو ں پر ذبح کیا جائے ۔(پ6،المآئدۃ:3)
ان تمام آیتوں میں اس جانور کے کھانے سے منع فرمایا گیا ہے جو کسی غیر خد ا کے نام پر ذبح کیا جاوے کہ حرام کرنے والی یہ ہی چیز ہے۔
ب کی مثال یہ ہے :(1) مَا جَعَلَ اللہُ مِنۡۢ بَحِیۡرَۃٍ وَّلَا سَآئِبَۃٍ وَّلَا وَصِیۡلَۃٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰکِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ
نہیں مقرر کیا اللہ نے کان چراہوا اور نہ بجار اور نہ وصیلہ اور نہ حام لیکن کافر لوگ اللہ پر جھوٹ افترا باند ھتے ہیں۔
یہ جانور جو اس آیت میں مذکور ہوئے مشرکین عرب کی طرف سے بتوں کے نام پر چھوڑے جاتے تھے یعنی زندگی میں ان پر غیر خدا کانام پکارا جاتا تھا اور مشرکین انہیں حرام سمجھتے تھے ان کے حرام سمجھنے کی تردید ا س آیت میں کردی گئی ہے اور انہیں حلال فرمایاگیا ۔ لہٰذا آج مشرکین کے چھوڑے ہوئے بجار حلال ہیں اللہ کے نام پر ذبح کرو اورکھاؤ۔(پ7،المآئدۃ:103)قاعدہ نمبر۲۷: نبی کے نفع ونقصان کے مالک ہونے نہ ہونے کی صورتیں اوران کی پہچان
الف : جہاں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کہلوایا گیا ہے کہ میں اپنے اور تمہارے نفع کا مالک نہیں ہوں وہاں اللہ کے بغیر مرضی ملکیت مراد ہے ۔
ب: جہاں فرمایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم غنی کردیتے ہیں