| علمُ القرآن |
مشیت رب کی مشیت میں فنا کر دیتا ہے ۔ اس کے بغیر چاہے چاہتا بھی نہیں رب تعالیٰ بھی ربوبیت کے لحاظ سے ساری مخلوق سے محبت کرتا ہے کیونکہ رب العالمین ہے اسی لئے ہادی بھیجے مگر چاہتا اس کی ہدایت ہے جس کی ہدایت میں حکمت ہے تو ہدایت نہ حضور کی محض محبت سے ملتی ہے نہ اللہ کی محض محبت سے ، ہاں رب کے ارادہ سے اور پھرحضور کے ارادے سے ہدایت نصیب ہوتی ہے ۔
(1) وَ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکَ اِعْرَاضُہُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنۡ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الۡاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاۡتِیَہُمۡ بِاٰیَۃٍ ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدٰی فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الْجٰہِلِیۡنَ ﴿۳۵﴾
اور اگر ان کفار کا پھر نا آپ پر شاق گزرا ہے تو اگر تم سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ تلاش کر لو یا آسمان میں زینہ پھر ان کیلئے نشانی لے آؤ اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا پس تم نادان نہ بنو۔(پ7،الانعام:35)
(2) لَیۡسَ عَلَیۡکَ ہُدٰىہُمْ وَلٰکِنَّ اللہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ
آپ پر ان کی ہدایت نہیں لیکن اللہ جسے چاہے ہدایت دے ۔(پ3،البقرۃ:272)
ان جیسی تمام آیتو ں میں رب کے خلاف مرضی ہدایت دینا مراد ہے یہ نہ نبی سے ممکن ہے نہ قرآن سے ۔''ب ''کی مثال یہ ہے :(1) وَ اِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ ﴿ۙ۵۲﴾
اور تم اے محبوب ہدایت کرتے ہو سیدھے راستے کی ۔(پ25،الشورٰی:52)