Brailvi Books

علمُ القرآن
172 - 244
جوانا ن جنت کے سردار ہیں ،ابو بکر جنتی ہیں، فاطمۃ الزہرا جنتی ہیں۔
(مشکاۃ المصابیح،کتاب المناقب،باب مناقب اھل بیت النبی،الحدیث۶۱۷۱، المجلد الثانی، ص۴۴۱ والحدیث۶۰۳۳، ص۴۱۷،دار الکتب العلمیۃبیروت)
    قاعدہ نمبر۲۵:نبی کی ہدایت کرنے کی صورتیں اوران کی پہچان
    الف: جن آیا ت میں فرمایا گیا ہے کہ نبی ہدایت نہیں کرتے وہاں مراد ہے اللہ کی مرضی کے خلاف ،اس کے مقابل ہدایت نہیں کرتے کہ رب چاہے کسی کو گمراہ کرنا اور نبی ہدایت کردیں یہ ناممکن ہے ۔

     ب : جہاں فرمایا گیا ہے کہ نبی ہدایت کرتے ہیں وہاں مراد ہے باذن الٰہی ہدایت کرتے ہیں ۔

'' الف'' کی مثال یہ ہے:
(1) اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ ہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۵۶﴾
بے شک تم ہدایت نہیں کرتے جسے محبت کر و لیکن اللہ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں کو۔(پ20،القصص:56)

    لطیفہ: اس جگہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اَحْبَبْتَ فرمایا اور اللہ کیلئے یَشَاءُ فرمایا دونوں جگہاَحْبَبْتَ یا دو نوں جگہ یَشَاءُ نہیں بولا گیا ۔ اس لئے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ساری مخلوق ہی سے محبت فرماتے ہیں ۔کیونکہ رحمت للعالمین ہیں اورآپ کو پسند ہے کہ سب کو ہی ہدایت ملے مگر آپ کی اس محبت پر ہدایت نہیں ملتی لیکن آپ اسی کی ہدایت چاہتے ہیں جس کی ہدایت رب چاہے جو فنا فی اللہ ہو وہ اپنی
Flag Counter