(1) اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ ہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۵۶﴾
بے شک تم ہدایت نہیں کرتے جسے محبت کر و لیکن اللہ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں کو۔(پ20،القصص:56)
لطیفہ: اس جگہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اَحْبَبْتَ فرمایا اور اللہ کیلئے یَشَاءُ فرمایا دونوں جگہاَحْبَبْتَ یا دو نوں جگہ یَشَاءُ نہیں بولا گیا ۔ اس لئے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ساری مخلوق ہی سے محبت فرماتے ہیں ۔کیونکہ رحمت للعالمین ہیں اورآپ کو پسند ہے کہ سب کو ہی ہدایت ملے مگر آپ کی اس محبت پر ہدایت نہیں ملتی لیکن آپ اسی کی ہدایت چاہتے ہیں جس کی ہدایت رب چاہے جو فنا فی اللہ ہو وہ اپنی