| علمُ القرآن |
فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں مجھے اس نے کتاب دی اور نبی فرمایا۔(پ16،مریم:30)
جب کلمۃ اللہ صلوات اللہ علیہ وسلامہ بچپن میں رب سے بے خبر نہیں تو جو حبیب اللہ ہو ں وہ کیسے بے خبر ہوں گے ۔لہٰذا اس آیت کے معنی وہ ہی ہیں جوعرض کئے گئے یعنی قیاس سے معلوم کرنا ۔
'' ب ''کی مثال اس آیت میں ہے :(1) لِّیَغْفِرَ لَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ
تاکہ بخش دے اللہ تمہارے طفیل تمہارے وہ گناہ جو اگلے ہیں اور پچھلے ہیں۔(پ26،الفتح:2)
یہاں تمہارے گناہ سے مرا دامت کے وہ گناہ ہیں جن کا بخشوانا حضور کے ذمہ کرم پر ہے جیسے وکیل کہتا ہے میرا مقدمہ فتح ہوگیا یعنی وہ مقدمہ جس کی پیروی میرے ذمہ ہے نہ یہ مطلب کہ میں اس میں گرفتار ہوں کیونکہ نبی گناہ سے معصوم ہیں۔(1) اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰکَ الْکَوْثَرَ ؕ﴿۱﴾
ہم نے تم کو کوثر دے دیا۔(پ30،الکوثر:1)
(۲) وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ ؕ﴿۴﴾
ہم نے تمہارا ذکر اونچا کردیا ۔(پ۳۰،الانشراح:۴)
ان جیسی بہت سی آیا ت سے معلوم ہو اکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے انجام سے باخبر کئے گئے ہیں مگر یہ علم وحی کا ہے نہ کہ محض عقلی ، لہٰذا آیات میں تعارض نہیں۔ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تو اپنی امت کے انجام کی بھی خبر رکھتے ہیں قرآن میں حضور کو شاہد فرمایا اور گواہ وہی ہوتا ہے جو واقعہ سے خبردار ہو ۔ اسی لئے فرمایا :حسن حسین