| علمُ القرآن |
چڑھ کر ہوتی ہے لیکن میری کامل عقل ان باتوں کے جاننے کے لئے کافی نہیں میں بھی عقل سے یہ چیزیں نہیں جانتا تو تم کیسے جان سکتے ہو ۔ مجھے یہ علم وحی کے ذریعہ ہوا اور تم صاحب وحی نہیں ہو تو ایسی باتوں میں عقل پر زور نہ دیا کرو ، اس کی تفسیر اسی آیت کے آخر میں یوں ہو رہی ہے۔
اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ وَمَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۹﴾ (پ26،الاحقاف:9)
میں نہیں پیروی کرتا مگر اس کی جو میری طر ف وحی ہوتی ہے اور میں نہیں مگر صاف ڈرسنانے والا۔
معلوم ہو اکہ آخرت کی پکڑ اور نجات وغیرہ وحی سے معلوم ہوتے ہیں جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر آتی ہے اس لئے اس آیت میں درایت کی نفی کی گئی۔ درایت کے معنی ہیں عقل سے جاننا، خدا تعالیٰ کے علم کو درایت نہیں کہتے کیونکہ وہ عقل سے پاک ہے ، اس کا علم عقلی نہیں حضور ی ہے ۔اس کی مثال یہ آیت ہے:وَکَذٰلِکَ اَوْحَیۡنَا اِلَیۡکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ؕ مَا کُنۡتَ تَدْرِیۡ مَا الْکِتٰبُ وَ لَا الْاِیۡمَانُ
اوریونہی ہم نے تمہیں وحی بھیجی ایک جاں فزا چیز اپنے حکم سے اس سے پہلے نہ تم کتا ب جانتے تھے نہ ایمان تفصیل دار۔(پ25،الشورٰی:52)
اس آیت کا مطلب بھی یہ ہی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن اور ایمان کو عقل ، قیاس، انداز ے سے معلوم نہ فرمایا ۔ بلکہ اس کا ذریعہ وحی الٰہی ہے۔ یہاں بھی داریت کی نفی ہے نہ کہ مطلق علم کی ورنہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ظہور نبوت سے پہلے عبادات کرتے تھے ایمان سے خبردار تھے ۔ عیسی علیہ السلام کا ماں کی گودمیں توحید ، رسالت ، احکام سے واقف ہونا قرآن شریف سے ثابت ہے کہ آپ نے اپنی پیدائش سے چند گھنٹے بعد قوم سے فرمایا۔