Brailvi Books

علمُ القرآن
169 - 244
    ان آیات سے معلوم ہوا کہ بعض پیغمبر بعض سے افضل ہیں اور خصوصاً ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سارے رسولوں میں ایسے ہیں جیسے تاروں میں سورج اور سارے جہان کی رحمت ہیں یہ صفات اور وں کو نہ ملیں۔

    نوٹ ضروری : بعض احادیث میں آیا ہے کہ ہم کو یونس علیہ السلام پر بھی بزرگی نہ دو اور بعض میں آیا ہے کہ ہم تمام اولاد آدم کے سردار ہیں ۔ ان احادیث میں مطابقت اسی طر ح ہے کہ ایسی بزرگی دینا جس سے یونس علیہ السلام کی توہین ہوجاوے منع ہے اور اس طرح حضور کی شان بیان کرنا کہ ان حضرات کی عظمت بر قرار رہے اور حضور کی شان معلوم ہوجائے ۔ بالکل جائز بلکہ ضروری ہے ۔
    قاعدہ نمبر۲۴: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو اپنے انجام کی خبر ہونے کی صورتیں اور ان کی پہچان
    الف: قرآن شریف میں جہاں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کہلوایا گیا ہے کہ مجھے خبر نہیں کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا ۔ وہاں اٹکل، حساب، قیاس، اندازے سے جاننا مراد ہے۔ یعنی میں اندازے یا قیاس سے یہ نہیں جانتا ۔

ب: اور جہاں ا سکے خلاف ہے وہا ں وحی ، الہام کے ذریعہ سے علم دینا مراد ہے ۔

'' الف ''کی مثال یہ ہے :
(1) وَمَاۤ اَدْرِیۡ مَا یُفْعَلُ بِیۡ وَلَا بِکُمْ ؕ
اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیاجاوے گا اور تمہارے ساتھ کیا ۔

    اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کے معاملات نجوم ، رمل ، قیاس ، حساب، اٹکل سے معلوم نہیں ہوسکتے میں باوجود یکہ پیغمبرہوں اور پیغمبر کی عقل تما م دنیا سے بڑھ
Flag Counter