| علمُ القرآن |
ان آیتوں میں ایمان کا فرق مراد ہے یعنی بعض پیغمبر وں کو ماننا او ربعض کو نہ ماننا یہ کفر ہے۔ ایمان کے لئے سب نبیوں کو ماننا ضروی ہے اس کی تفسیر اس آیت نے کی ۔
(3)اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکْفُرُوۡنَ بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اللہِ وَرُسُلِہٖ وَیَقُوۡلُوۡنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿۱۵۰﴾
بے شک وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں کا اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان میں رستہ بنالیں۔(پ6،النسآء:150) اس آیت نے بتادیا کہ پیغمبروں کے درمیان ایمان لانے میں فر ق کرنا منع ہے۔ ''ب'' کی مثال یہ ہے:
(1) تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ ۘ مِنْہُمۡ مَّنۡ کَلَّمَ اللہُ وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍ
یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر بزرگی دی ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا اور بعض وہ ہیں جنہیں درجوں میں بلندکیا ۔(پ3،البقرۃ:253)
(2) یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿۴۵﴾ۙوَّ دَاعِیًا اِلَی اللہِ بِاِذْنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا ﴿۴۶﴾
اے نبی ہم نے آپ کوبھیجاگواہ خوش خبریاں دیتا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف اس کے اذن سے بلاتا اور چمکانے والا سورج۔(پ22،الاحزاب:45۔46)
(3) وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾
اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام جہانوں کی رحمت ۔(پ17،الانبیآء:107)