Brailvi Books

علمُ القرآن
167 - 244
دینا ضروری ہے۔ مطابقت اسی طر ح ہوگی جو ہم نے عرض کردیا کہ بخوشی کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور کوئی دوسرے کا بوجھ اس طر ح نہ اٹھائے گا کہ اصلی مجرم بالکل آزاد ہوجائے ہاں گمراہ کرانے والا بری باتوں کا موجد سارے مجرموں کا بوجھ اٹھائے گا یہ ضرور خیال رکھنا چاہیے ۔
    قاعدہ نمبر۲۳: رسولوں میں فرق کرنے کی صورتیں اوران کی پہچان
     الف: جن آیتوں میں فرمایا گیا ہے کہ رسولوں میں فرق نہ کرو۔وہاں ایمان میں فرق کرنا مراد ہے یعنی ایسے فرق نہ کرو کہ بعض کو مانو اور بعض کو نہ مانو یا مراد یہ ہے کہ اپنی طرف سے فرق پیدا نہ کرو یعنی ان کے فضائل اپنی طرف سے نہ گھٹاؤ یا ایسا فرق نہ کرو جس سے بعض پیغمبر وں کی توہین ہوجاوے ۔

ٍ    ب: جن آیتوں میں فرمایا گیا کہ پیغمبروں میں فرق ہے وہاں درجات اور مراتب کا فرق مراد ہے یعنی بعض کے درجے بعض سے اعلیٰ ہیں۔

'' الف'' کی مثال یہ ہے :
(1)  لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ
مسلمان کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے رسولوں میں فر ق نہیں کرتے ۔(پ3،البقرۃ:285)
(2) وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَلَمْ یُفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ اُولٰٓئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیۡہِمْ اُجُوۡرَہُمْ ؕ وَکَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۵۲﴾٪
اور وہ جو اللہ تعالیٰ او راس کے رسولوں پر ایمان لائے اور ان رسولوں میں سے کسی میں فرق نہ کرے ۔ یہ وہ ہیں جنہیں رب ان کا ثواب دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔(پ6،النسآء:152)
Flag Counter