Brailvi Books

علمُ القرآن
166 - 244
     ان تمام آیتوں سے معلوم ہوا کہ کسی کی پکڑ دوسرے کی وجہ سے نہ ہوگی اورکوئی کسی کا نہ گناہ اٹھائے نہ نیکی سے فائدہ پائے بلکہ اپنی کرنی اپنی بھرنی ہے ۔

'' ب'' کی مثال یہ ہے:
(1) وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَہُمْ وَاَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِہِمْ ۫ وَ لَیُسْـَٔلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَمَّا کَانُوۡا یَفْتَرُوۡنَ ﴿٪۱۳﴾
اوربے شک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اوراپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ اور ضرور قیامت کے دن پوچھے جائیں گے جو کچھ بہتان اٹھاتے تھے۔(پ9،الانفال:25)
(2) یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ وَ اَہۡلِیۡکُمْ نَارًا وَّ قُوۡدُہَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَۃُ  ۔
اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔(پ28،التحریم:6)
(3) وَاتَّقُوۡا فِتْنَۃً لَّا تُصِیۡبَنَّ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡکُمْ خَآصَّۃً ۚ وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ شَدِیۡدُ الْعِقَابِ ﴿۲۵﴾
اور اس فتنہ سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں سے خاص ظالموں کو ہی نہ پہنچے گا ، اور جان لو کہ اللہ کاعذاب سخت ہے ۔
(4)وَلَا تَکُوۡنُوۡۤا اَوَّلَ کَافِرٍۭ بِہٖ
تم قرآن کے پہلے کافر نہ بنو۔(پ1،البقرۃ:41)

    ان آیات سے معلوم ہو اکہ قیامت میں بعض گنہگار دوسرے مجرموں کا بھی بوجھ اٹھائیں گے اوریہ بھی پتا لگا کہ بعض کے گناہوں کی وجہ سے دنیا میں بھی دوسروں پر مصیبت آجاتی ہے یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنی نجات کے لئے اپنے گھر والوں کو ہدایت
Flag Counter