پہلی آیت سے معلوم ہو اکہ جس گرتی ہوئی دیوار کی مرمت حضرت خضر و موسیٰ علیہما السلام نے کی ۔ وجہ صرف یہ تھی کہ اس کے نیچے خزانہ تھا جو ایک نیک آدمی کاتھا ۔ اس کے دو چھوٹے بچے تھے ، رب تعالیٰ نے چاہا کہ دیوار کھڑی رہے اور خزانہ محفوظ رہے تا کہ بچے جوان ہو کر نکال لیں ۔ اس لئے دو پیغمبر وں کو اس کی مرمت کے لئے بھیجا ، ان نابالغ یتیموں پر یہ مہربانی ان کے باپ کی نیکی کی وجہ سے ہوئی۔
دوسری آیت سے معلوم ہو اکہ نیکوں کی مومن اولاد جنت میں اپنے ماں باپ کے ساتھ رہے گی اگرچہ اولا د کے اعمال باپ سے کم درجہ کے ہوں ۔ ایسے ہی نابالغ بچے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے فرزندان حضرت طیب وطاہر وقاسم وابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہم جنت میں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں گے حالانکہ کوئی نیکی نہ کی۔ معلوم ہوا کہ کسی کی نیکی دوسرے کے کام آجاتی ہے۔ اسی وجہ سے ایصال ثواب ، فاتحہ وغیرہ کرتے ہیں بلکہ حج بدل بھی دوسرے کی طر ف سے کرسکتے ہیں۔اور زکوۃ میں دوسرے کے نائب بن سکتے ہیں۔