اس نفس کیلئے مفید ہیں وہ عمل جو خود کرے اور اس کو مضر ہیں وہ گناہ جو خود کرے ۔(پ3،البقرۃ:286)
ان دنوں آیتوں کا منشایہ ہے کہ کوئی کسی کی طر ف سے فرض نماز نہیں پڑھ سکتا، فرضی روزہ نہیں رکھ سکتا ، ان آیتوں میں اسی لئے سعی او رکسب کا ذکر ہے یا منشاء یہ ہے کہ اپنی ملکیت انہی عملوں پر ہے جو خود کرلئے جاویں کیا خبر کوئی دوسرا ثواب بھیجے یا نہ بھیجے ۔ اس کے بھروساپر خود غافل رہنا بیوقوفی ہے ۔''ب'' کی مثال یہ ہے :
(1) وَکَانَ تَحْتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَکَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّہُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا کَنۡزَہُمَا
حضرت خضرنے فرمایاکہ اس دیوار کے نیچے دو یتیموں کا خزانہ ہے او ران کا باپ نیک تھاپس تمہارے رب نے چاہاکہ یہ بالغ ہوں تو اپنا خزانہ نکالیں۔(پ16،الکھف:82)
(2) وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمَانٍ اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰہُمۡ مِّنْ عَمَلِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ
اور جو ایمان لا ئے اوران کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہم نے ان کی اولاد ان سے ملادی اور ان کے عمل میں انہیں کچھ کمی نہ دی ۔(پ27،الطور:21)