Brailvi Books

علمُ القرآن
162 - 244
(3) وَیُزَکِّیۡہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ
او روہ رسول انہیں پاک کرتے ہیں اورانہیں کتاب اور حکمت سکھاتے ہیں۔(پ4،اٰل عمرٰن:164)
(4) قُلْ یَتَوَفّٰىکُمۡ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیۡ وُکِّلَ بِکُمْ
فرماؤ کہ تمہیں موت دے گا وہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے ۔(پ21،السجدۃ:11)

    ان جیسی تما م آیتو ں میں وسیلہ کا ثبوت ہے مگر وہی وسیلہ مراد ہے جو اللہ کے اذن اور اجازت سے اس کا پیارا بندہ رب تک پہنچا ئے ۔

    نوٹ ضروری: وسیلہ اسلام میں بڑی اہم چیز ہے کیونکہ سارے اعمال موت پر ختم ہوجاتے ہیں مگر وسیلہ پکڑنا موت ، قبر ، حشر ہرجگہ ضروری ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام پر موت ہو ، قبر میں ان کے نام پر کامیابی ہو، حشر میں ان کے طفیل نجات ہو ، نیز اور اعمال کی ضرورت صرف انسانوں کو ہے مگر وسیلہ کی ضرورت ہر مخلوق کو دیکھو کعبہ معظمہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وسیلہ کے بغیر قبلہ نہ بنا اور حضور کے ہاتھوں کے بغیر بتوں کی گندگی سے پاک نہ ہوسکا۔وسیلہ کا انکار اسلام کے بڑے اہم مسئلہ کا انکار ہے ۔
    قاعدہ نمبر۲۱: کسی کے اعمال دوسرے کے کام آنے نہ آنے کا قاعدہ
    الف:جن آیتوں میں فرمایا گیا ہے کہ انسان کوصرف اپنے عمل ہی کام آویں گے یا فرمایا گیا ہے کہ نہیں ہے انسان کے لئے مگر وہ جو خود کرے ، اس سے مراد بدنی فرض عبادتیں ہیں یا یہ مطلب ہے کہ قابل اعتماد اپنے اعمال ہیں کسی کے بھیجنے کا یقین نہیں ۔

    ب:جن آیتو ں میں فرمایا گیا ہے کہ دوسروں کی نیکی اپنے کام آتی ہے۔
Flag Counter