Brailvi Books

علمُ القرآن
161 - 244
    ان جیسی بے شمار آیتو ں میں اللہ کے اذن سے مدد گار مراد ہیں ۔ اس کی پوری تفصیل پہلے باب میں ولی کی بحث میں گذرچکی ۔ وہا ں مطالعہ کرو ۔
    قاعدہ نمبر۲۰: وسیلہ کی قسمیں اوران کی پہچان
    الف: جہاں وسیلہ کاانکار ہے وہاں بتو ں کا وسیلہ یا کفار کے لئے وسیلہ مراد ہے ۔ یا وہ وسیلہ مراد ہے جس کی پوجا پاٹ کی جاوے ۔

    ب:جہاں وسیلہ کا ثبوت ہے ، وہاں رب کے پیاروں کا وسیلہ یا مومنوں کے لیے وسیلہ مراد ہے تا کہ آیتوں میں تعارض واقع نہ ہو۔

'' الف'' کی مثال یہ ہے:
مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللہِ زُلْفٰی
نہیں پوجتے ہیں ہم ان بتوں کو مگر اس لئے تا کہ وہ ہمیں خدا سے قریب کردیں۔(پ23،الزمر:3)

    اس سے معلوم ہو اکہ مشرکین عرب اپنے بتو ں کو جو اللہ کے دشمن ہیں خدا رسی کا وسیلہ سمجھ کر پوجتے تھے یعنی ان کے شرک کی وجہ دو ہوئیں ۔ ایک دشمنان خدا کو اس تک پہنچنے کا وسیلہ سمجھنا ، دوسرے انہیں پوجنا ، صرف وسیلہ اختیار کرنے کی وجہ سے مشرک نہ ہوئے ۔''ب'' کی مثال یہ ہے :
(1) وَابْتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الْوَسِیۡلَۃَ
اس رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈو ۔(پ6،المآئدۃ:35)
(2) وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾
اور اگر یہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر کے آپکے حضور آجاویں پھر خدا سے معافی مانگیں اور ر سول بھی ان کے لئے دعا مغفرت کریں تو اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پاویں ۔(پ5،النسآء:64)
Flag Counter