نہیں پوجتے ہیں ہم ان بتوں کو مگر اس لئے تا کہ وہ ہمیں خدا سے قریب کردیں۔(پ23،الزمر:3)
اس سے معلوم ہو اکہ مشرکین عرب اپنے بتو ں کو جو اللہ کے دشمن ہیں خدا رسی کا وسیلہ سمجھ کر پوجتے تھے یعنی ان کے شرک کی وجہ دو ہوئیں ۔ ایک دشمنان خدا کو اس تک پہنچنے کا وسیلہ سمجھنا ، دوسرے انہیں پوجنا ، صرف وسیلہ اختیار کرنے کی وجہ سے مشرک نہ ہوئے ۔''ب'' کی مثال یہ ہے :
(1) وَابْتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الْوَسِیۡلَۃَ
اس رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈو ۔(پ6،المآئدۃ:35)
(2) وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾
اور اگر یہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر کے آپکے حضور آجاویں پھر خدا سے معافی مانگیں اور ر سول بھی ان کے لئے دعا مغفرت کریں تو اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پاویں ۔(پ5،النسآء:64)