پس ہمارے لئے اپنی طرف سے ولی بنادے اور ہمارے لئے اپنی طرف سے مدد گار مقرر فرمادے ۔(پ5،النسآء:75)
ان جیسی آیا ت میں ''ولی'' سے مراد معبود نہیں ، بلکہ دوست یا مدد گار و غیرہ مراد ہیں کیونکہ یہاں رب کے مقابل ولی نہیں فرمایا گیاہے اس کی پوری تحقیق پہلے باب میں''ولی'' کے بیان میں گزرچکی ہے۔
قاعدہ نمبر۹: دعا کے معانی اوران کی پہچان
الف: جب ''دعا'' کے بعد دشمنِ خدا کا ذکر ہو یا دعاکا فاعل کافر ہو یا دعا پر رب تعالیٰ کی ناراضگی کا اظہار ہو یا دعا کرنے والو ں کو رب تعالیٰ نے کا فر، مشرک، گمراہ فرمایا ہو تو دعا سے مراد عبادت ،پوجنا وغیرہ ہوگا نہ کہ محض پکارنا یا بلانا ۔
ب: جب'' دعا'' کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو تو وہاں اس کے معنی پکارنا ، پوجنا، دعا مانگنا ہوگا حسب موقع معنی کئے جائیں گے ۔
''الف'' کی مثال یہ ہے :