Brailvi Books

علمُ القرآن
141 - 244
     ان جیسی آیتو ں میں ولی بمعنی معبو د ہے یا مالک حقیقی ۔''ب'' کی مثال یہ ہے:
(1) اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ رٰکِعُوۡنَ ﴿۵۵﴾
تمہارا دو ست یا مدد گار اللہ اور اس کا رسول اور وہ مومن ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اورزکوٰۃ دیتے ہیں اور رکوع کرتے ہیں ۔(پ6،المآئدۃ:55)
(2) وَاجْعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ وَلِیًّا ۚۙ وَّاجْعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ نَصِیۡرًا ﴿ؕ۷۵﴾
پس ہمارے لئے اپنی طرف سے ولی بنادے اور ہمارے لئے اپنی طرف سے مدد گار مقرر فرمادے ۔(پ5،النسآء:75)

    ان جیسی آیا ت میں ''ولی'' سے مراد معبود نہیں ، بلکہ دوست یا مدد گار و غیرہ مراد ہیں کیونکہ یہاں رب کے مقابل ولی نہیں فرمایا گیاہے اس کی پوری تحقیق پہلے باب میں''ولی'' کے بیان میں گزرچکی ہے۔
    قاعدہ نمبر۹: دعا کے معانی اوران کی پہچان
    الف: جب ''دعا'' کے بعد دشمنِ خدا کا ذکر ہو یا دعاکا فاعل کافر ہو یا دعا پر رب تعالیٰ کی ناراضگی کا اظہار ہو یا دعا کرنے والو ں کو رب تعالیٰ نے کا فر، مشرک، گمراہ فرمایا ہو تو دعا سے مراد عبادت ،پوجنا وغیرہ ہوگا نہ کہ محض پکارنا یا بلانا ۔

     ب: جب'' دعا'' کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو تو وہاں اس کے معنی پکارنا ، پوجنا، دعا مانگنا ہوگا حسب موقع معنی کئے جائیں گے ۔

''الف'' کی مثال یہ ہے :
Flag Counter