(3) ہُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ فَادْعُوۡہُ
وہ ہی زندہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں بس اسے پوجو ۔(پ24،المؤمن:65)
ان جیسی تمام آیات میں ''دعا'' کے معنی پوجنا ہیں پکارنا یا بلانا نہیں۔معنی یہ ہوں گے کہ خدا کے سوا کسی کونہ پوجو۔ یہ مطلب نہیں کہ کسی کو نہ پکارویا نہ بلاؤ۔
''ب'' کی مثال یہ آیات ہیں :
(1) اُدْعُوۡا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً
اپنے رب سے دعا مانگو عاجزی سے پوشیدہ ۔(پ8،الاعراف:55)
(2) اُجِیۡبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ
دعا کرنے والوں کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا مانگتے ہیں ۔(پ2،البقرۃ:186)
ان جیسی آیات میں دعاسے مراد دعا مانگنا بھی ہوسکتا ہے اور پوجنا بھی ، پکارنابھی، ایک ہی لفظ مختلف موقعوں پر مختلف معانی میں ہوتا ہے اگر بے موقع معنی کئے جاویں تو کبھی کفر لازم آجاتا ہے اس کی تحقیق پہلے باب میں دعا کے بیان میں گزرچکی۔
قاعدہ نمبر۱۰:شرک کے معانی اور ان کی پہچان
الف: جب'' شرک'' کا مقابلہ ایمان سے ہوگا تو شرک سے مراد ہر کفر ہوگا ۔