| علمُ القرآن |
اور اگرتمہیں رب ر سوا کرے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے ۔(پ4،اٰل عمرٰن:160)
ان آیتو ں نے بتایا کہ کوئی بندہ رب کے خلاف ہو کر اس کے مقابل رب سے کسی کو نہ بچاسکے نہ کسی کی مدد کر سکے ہاں اس کے ارادے ، اس کے اذن سے بندے ولی بھی ہیں، شفیع بھی ہیں ، مدد گار بھی ہیں، وکیل بھی ہیں ۔قاعدہ نمبر۸: ولی کے معانی اور ان کی پہچان
الف: جب ''ولی'' ر ب کے مقابل آوے تواس سے مراد معبود یا مالک حقیقی ہے اور ایسا ولی اختیار کرنا شرک وکفر ہے۔
ب: جب ''ولی'' رب کے مقابل نہ ہو تو اس سے مراد دوست یا مدد گار، وغیرہ ہیں۔''الف'' کی مثال یہ ہے:(1) اَفَحَسِبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا عِبَادِیۡ مِنۡ دُوۡنِیۡۤ اَوْلِیَآءَ
کیا کافروں نے سمجھ رکھا ہے کہ میرے بندوں کو میرے سوا معبود بنائیں ۔(پ16،الکھف:102)
(2) مَثَلُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ اَوْلِیَآءَ کَمَثَلِ الْعَنۡکَبُوۡتِ ۖۚ اِتَّخَذَتْ بَیۡتًا
ان کی مثال جنہوں نے خدا کے سوا کوئی معبود بنالیا مکڑی کی طر ح ہے جس نے گھر بنایا۔(پ20،العنکبوت:41)
(3) وَالَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوْلِیَآءَ
اور وہ جنہوں نے اللہ کے سوا کوئی معبود بنالئے۔(پ23،الزمر:3)