کیا ان کے پاس ایسے معبود ہیں جو ہمارے مقابل انہیں بچا لیں۔(پ17،الانبیآء:43)
(3) اَلَّا تَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِیۡ وَکِیۡلًا ؕ﴿۲﴾
میرے مقابل کسی کو وکیل نہ بناؤ ۔(پ15،بنیۤ اسرآء یل:2)
(4) اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ شُفَعَآءَ
بلکہ بنالئے انہو ں نے اللہ کے مقابل حمایتی ۔(پ24،الزمر:43)
ان جیسی تمام آیتوں میں'' مِنْ دُوْنِ اللہِ'' سے مراد اللہ کے مقابل ہوگا یعنی اللہ کے مقابل تمہارا کوئی مدد گار ، ناصر ، سفارشی ، وکیل نہیں جو رب سے مقابلہ کر کے تمہیں اس کے عذاب سے بچالے ۔ اگر ان آیات میں اس کے معنی اللہ کے سوا کئے گئے یعنی خدا کے سوا تمہارا کوئی مدد گار نہیں تو ان آیتوں سے تعا رض ہوگا جن میں بندوں کو مدد گار بتایا گیا ہے جیسا کہ پہلے با ب میں گزر چکا ۔ اس معنی کی تائید ان آیتو ں سے ہو رہی ہے :
(1) قُلْ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَعْصِمُکُمۡ مِّنَ اللہِ اِنْ اَرَادَ بِکُمْ سُوۡٓءًا
وہ کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچالے اگر وہ تمہاری برائی چاہے ۔(پ21،الاحزاب:17)