| علمُ القرآن |
او ربچو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔(پ1،البقرۃ:24)
پہلے''اِتَّقُوْا''کے معنی ڈرنا ہے کیونکہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے اور دوسرے''اِتَّقُوْا'' کے معنی بچنا ہے کیونکہ اس کے بعد آگ کا ذکر ہے ۔قاعدہ نمبر۷:من دون اللہ کے معانی اوران کی پہچان
الف: جب''مِنْ دُوْنِ اللہِ'' عبادت کے ساتھ آوے تو اس کے معنی ہوں گے اللہ کے سوا ء ۔
ب: جب ''مِنْ دُوْنِ اللہِ'' مدد ، نصرت ، ولایت ، دعا بمعنی پکارنا کے ساتھ آوے ۔تو اس کے معنی ہوں گے اللہ کے مقابل یعنی اللہ کے سوا ء وہ لوگ جو اللہ کے مقابل ہیں۔''الف''کی مثال یہ ہے :(1) اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ
تم اور وہ چیزیں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو دوزخ کا ایندھن ہیں ۔(پ17،الانبیآء:98)
(2) وَمَنۡ یَّدْعُ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ
اور جو کوئی اللہ کے سو ا دوسرے معبود کو پوجے ۔(پ18،المؤمنون:117)
(3) وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلہِ فَلَا تَدْعُوۡا مَعَ اللہِ اَحَدًا ﴿ۙ۱۸﴾
بے شک مسجدیں اللہ کی ہیں تو تم خدا کے ساتھ کسی کو نہ پوجو ۔(پ29،الجن:18)