منافقین دھوکہ دیا چاہتے ہیں اللہ کو اور مسلمانوں کو اور نہیں دھوکہ دیتے مگر اپنی جانوں کو۔(پ1،البقرۃ:9)
(3) وَمَکَرُوۡا وَمَکَرَ اللہُ ؕ وَاللہُ خَیۡرُ الْمٰکِرِیۡنَ ﴿٪۵۴﴾
اور منافقوں نے مکر کیا اور اللہ نے ان کے خلاف خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ تمام تدبیر یں کرنے والوں میں بہتر ہے ۔(پ3،ال عمرٰن:54)
ان تمام آیتوں میں جہاں مکر یا خدا ع کا فاعل کفار ہیں ۔ اس سے مراد دھوکا فریب ہے او رجہاں اس کا فاعل رب تعالیٰ ہے وہاں مراد یا تو مکر کی سز اہے یا خفیہ تدبیر۔
قاعدہ نمبر۶: تقویٰ کے معانی اور ان کی پہچان
الف: جب ''تقویٰ'' کی نسبت رب کی طر ف ہو تو اس سے مراد ڈرنا ہوگا۔
ب:جب'' تقویٰ'' کی نسبت آگ یا کفر یا گناہ کی طرف ہو تو اس سے مراد بچنا ہوگا ۔
رب تعالیٰ فرماتا ہے :
(1) یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ
اے لوگو ! ڈرو اپنے اس رب سے جس نے تمہیں پیدا کیا۔(پ4،النسآء:1)