(3) قَالَ فَعَلْتُہَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾
فرمایا موسیٰ نے کہ میں نے قبطی کو مارنے کا کام جب کیا تھا جب مجھے راہ کی خبر نہ تھی۔(پ19،الشعرآء:20)
یعنی نہ جانتا تھا کہ گھونسہ مارنے سے قبطی مرجائے گا ۔ان جیسی تمام آیتو ں میں ''ضلال'' کے معنی گمراہی نہیں ہوسکتے کیونکہ نبی ایک آن کے لئے گمراہ نہیں ہوتے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :(1) مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی ۚ﴿۲﴾
تمہارے صاحب محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نہ بہکے نہ بے راہ چلے ۔(پ27،النجم:2)
(2)لَیۡسَ بِیۡ ضَلٰلَۃٌ وَّلٰکِنِّیۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۱﴾
حضر ت شعیب نے فرمایا کہ مجھ میں گمراہی نہیں لیکن میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں ۔(پ8،الاعراف:61)
ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ نبی گمراہ نہیں ہوسکتے۔ آیت ۲ میں''لکن'' بتارہا ہے کہ نبوت اور گمراہی جمع نہیں ہوسکتی ۔قاعدہ نمبر۵: مکریا خداع کے معنی اور ان کی پہچان
الف: ''مکر ''یا ''خداع'' کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتو اس کے معنے دھوکہ یا فریب نہ ہوں گے کیونکہ یہ عیب ہیں بلکہ اس کے معنی ہوں گے دھوکے کی سزا دینا یا خفیہ تدبیر کرنا ۔