Brailvi Books

علمُ القرآن
135 - 244
    ان آیتو ں میں چونکہ بندوں کو رب کہا گیا ہے اس لئے اس کے معنے مربی اور پرورش کرنے والا ہیں۔
    قاعدہ نمبر۴: ضلال کے معنی اور انکی پہچان
الف: جب ''ضلال'' کی نسبت غیرنبی کی طرف ہو تواس کے معنی گمراہ ہوں گے۔

ب:جب ''ضلال'' کی نسبت نبی کی طر ف ہو تو اس کے معنی وار فتہ محبت یا راہ سے ناواقف ہوں گے ۔

'' الف'' کی مثال یہ ہے :
(1) مَنۡ یُّضْلِلِ اللہُ فَلَاہَادِیَ لَہٗ
جسے خدا گمراہ کرے اسے ہدایت دینے والا کوئی نہیں ۔(پ9،الاعراف:186)
(2) غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ وَلَا الضَّآ لِّیۡنَ ٪﴿۷﴾
ان کا راستہ نہ چلا جن پر غضب ہو انہ گمراہوں کا ۔(پ1،الفاتحۃ:7)
(3) وَمَنۡ یُّضْلِلْ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا ﴿٪۱۷﴾
جسے رب گمراہ کردے تم اس کیلئے ہادی رہبر نہ پاؤ گے ۔(پ15،الکھف:17)

    ان جیسی تمام آیتو ں میں چونکہ ضلال کا تعلق نبی سے نہیں غیر نبی سے ہے تو اس کے معنی ہیں گمراہی خواہ کفر ہو یا شرک یا کوئی اور گمراہی سب اس میں داخل ہوں گے ۔

''ب''کی مثالیں :
(1) وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی ۪﴿۷﴾
اے محبوب رب نے تمہیں اپنی محبت میں وارفتہ پایا تو اپنی راہ دے دی ۔(پ30،الضحی:7)
Flag Counter